امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ جلد ہندوستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس دورہ کی تصدیق کر دی ہے۔ روبیو نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ خود ٹرمپ کے تاریخی ہندوستانی دورہ کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ جلد ہندوستان آئیں گے۔ روبیو نے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ اگلے سال کے آغاز میں صدر ٹرمپ کے دورۂ ہندوستان کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی قربت کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ دونوں ممالک دو طرفہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں۔United States President Donald Trump will visit India early in 2027, US Ambassador to India Sergio Gor confirmed to news agency IANS in an exclusive interview. The visit plan comes as the two countries push to finalise a long-awaited trade deal and deepen ties across energy,… pic.twitter.com/UEqHwWumeF— The Indian Express (@IndianExpress) June 27, 2026وائٹ ہاؤس میں خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں روبیو نے کہا کہ ’’میں سال کے آخر میں صدر ٹرمپ کے دورے کی تیاریوں کے سلسلے میں ہندوستان کا سفر کروں گا۔‘‘ ہند-امریکہ تعلقات سے متعلق روبیو نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط مرحلے میں ہیں اور جی-7 سربراہ اجلاس میں صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات کے بعد ہند-امریکہ تعلقات میں مزید بہتری آئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ کواڈ اجلاس کے بارے میں بھی جلد بات چیت ہو سکتی ہے۔ روبیو نے ہندوستان کو امریکہ کا قریبی ترین شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہندوستان امریکہ کا ایک قریبی شراکت دار ہے اور وزیر اعظم مودی اور صدر ٹرمپ کے تعلقات بھی بہت اچھے ہیں، جو میرے خیال میں سفارت کاری میں نہایت اہم ہوتے ہیں۔‘‘قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آخری بار فروری 2020 میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے نئی دہلی میں دو طرفہ مذاکرات سے قبل احمد آباد میں ’نمستے ٹرمپ‘ ریلی سے بھی خطاب کیا تھا۔ 2024 میں امریکی اقتدار میں دوبارہ واپسی کے بعد بھی ٹرمپ نے ہندوستان کے ساتھ بہتر تعلقات کو فروغ دیا ہے اور دونوں ممالک تجارت، دفاع، ٹیکنالوجی اور ہند-بحرالکاہل خطہ میں تعاون کو وسعت دے رہے ہیں۔ ہندوستان میں امریکہ کے سفیر سرجیو گور نے ہندوستان اور امریکہ کو لامحدود امکانات رکھنے والے فطری شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ٹیکنالوجی، دفاع، سرمایہ کاری اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی ذاتی تعلقات سے بھی تقویت مل رہی ہے۔وائٹ ہاؤس میں آئی اے این ایس کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں گور نے ہندوستان میں اپنے پہلے 6 ماہ کے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی تنوع بھری شناخت، تیزی سے ترقی کرتی معیشت اور امریکہ کے ساتھ مضبوط ہوتی شراکت داری نے دو طرفہ تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے ان کے اعتماد کو مزید مستحکم کیا ہے۔ امریکی سفیر نے صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم مودی کے درمیان قریبی عملی تعلقات کی بھی تعریف کی اور اسے دو طرفہ تعلقات کی مضبوط بنیاد قرار دیا۔ وزیر اعظم مودی کے بارے میں گور نے کہا کہ ’’وہ بے حد متحرک ہیں، ہر کام میں ذاتی دلچسپی لیتے ہیں اور نتائج پر زور دیتے ہیں۔ مجھے ان میں اور صدر ٹرمپ میں کئی مماثلتیں نظر آتی ہیں، کیونکہ دونوں خود قیادت کرتے ہوئے کام مکمل کرانے پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’دونوں کی سوچ کافی حد تک ایک جیسی ہے اور دونوں نتائج دینا چاہتے ہیں۔‘‘