منامہ (27 جون 2026): امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دو اعلیٰ عہدیداروں، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ایران اور اسرائیل کے معاملے پر الگ الگ بیانات عالمی سطح پر نمایاں ہونے لگے ہیں۔روئٹرز نے رپورٹ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے معاملے پر ایک متحدہ مؤقف پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے، تاہم گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ان کے نائب صدر اور وزیر خارجہ کے بیانات میں بعض اوقات اختلاف نظر آیا ہے، خاص طور پر اسرائیل کے معاملے پر۔نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے ابتدائی معاہدے پر تنقید کرنے والے اسرائیلی ناقدین کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھیں جواب دیتے ہوئے وینس نے کہا کہ بیروت میں شہری انفرااسٹرکچر پر اسرائیلی بمباری امریکا کی قیادت میں جاری امن کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔وزیر خارجہ مارکو روبیو، جنھوں نے اس ہفتے خلیجی ممالک کا دورہ کیا، نے لبنان میں اسرائیل کی فوجی مہم کا دفاع کرتے ہوئے کئی بار کہا کہ اسرائیل کی کارروائیاں حزب اللہ کے حملوں کے جواب میں جائز ہیں۔فوجی رابطے کا نیا چینل قائم کرنے کا بیان سراسر جھوٹ ہے، ایران نے تردید کر دیجب روبیو سے وینس کی تنقید کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا اور اس کی بہ جائے ہفتے کے آغاز میں لبنان میں قائم حزب اللہ کی جانب سے ایک اسرائیلی چیک پوسٹ پر کیے گئے حملے کا ذکر کیا۔جے ڈی وینس کے بیانات کے برعکس، مارکو روبیو نے کہا ہے کہ وہ خلیجی اتحادیوں سے ایران کی تعمیرِ نو کے لیے فنڈز دینے کا نہیں کہیں گے۔یہ تضاد اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ اگرچہ انتظامیہ نے اتحاد پر زور دیا ہے، لیکن مختلف عالمی نظریات بعض اوقات نمایاں ہو کر سامنے آ رہے ہیں، جو ایسے وائٹ ہاؤس کے لیے ایک چیلنج ہے جس کے سیاسی اتحاد میں خارجہ پالیسی کے معاملات پر پہلے ہی گہری تقسیم موجود ہے۔یہ صورت حال 2028 کے صدارتی انتخابات کے حوالے سے ریپبلکن پارٹی کے ممکنہ مستقبل کی ابتدائی جھلک بھی پیش کرتی ہے، کیوں کہ روبیو اور وینس دونوں کو صدارتی امیدواروں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے وینس اور روبیو دونوں کو نمایاں غیر ملکی دوروں پر بھیجا گیا تاکہ 17 جون کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والے ابتدائی امن معاہدے کا دفاع کیا جا سکے۔وینس ایران کے حکام کے ساتھ مذاکرات کے ایک دور میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ گئے۔ اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی صورت حال پر واضح طور پر پُرامید لہجہ اختیار کیا۔ حالیہ ہفتوں میں وہ بارہا یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ خلیجی ممالک ایران کی تعمیرِ نو کے اخراجات برداشت کر سکتے ہیں۔دوسری جانب روبیو نے متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کا دورہ کیا تاکہ ان اتحادیوں کو یقین دہانی کرا سکیں، جن میں سے بعض کو خدشہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان عبوری معاہدہ تہران کے لیے حد سے زیادہ نرم ہے، کہ ان کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔ منگل کے روز روبیو نے کہا کہ وہ اپنے دورے کے دوران خلیجی اتحادیوں سے ایران کی تعمیرِ نو کے لیے مالی معاونت کی درخواست نہیں کریں گے، کیوں کہ ان کے بقول اس امکان پر بات کرنا ’’ابھی بہت دور کی بات ہے۔‘‘ادھر وائٹ ہاؤس نے دونوں عہدے داروں کے درمیان کسی بھی قسم کے اختلاف کی سختی سے تردید کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا ’’صرف ایک ہی کیمپ ہے، یعنی صدر ٹرمپ کا کیمپ، اور پوری انتظامیہ صدر کی ان کوششوں کے ساتھ مکمل طور پر کھڑی ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔‘‘