’مودی حکومت غزہ معاملہ پر جرأت کے ساتھ اپنی آواز بلند کرے‘، سونیا گاندھی کے مضمون پر راہل گاندھی کا موقف آیا سامنے

Wait 5 sec.

کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی کا ایک مضمون آج انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ میں شائع ہوا، جس کی کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے پذیرائی کی ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے غزہ میں جاری جنگ، فلسطینی عوام کی حالت زار اور ہندوستان کی مایوس کن خارجہ پالیسی کے بارے میں لکھے گئے اس مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی بامعنی رائے سامنے رکھی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ہم تیزی کے ساتھ اسرائیل کے اسٹریٹجک دائرۂ اثر میں داخل ہوتے جا رہے ہیں، ایسے وقت میں جب دنیا کا بڑا حصہ اس سے دوری اختیار کر رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی کا دورۂ اسرائیل تاریخ میں ایک حیرت انگیز اسٹریٹجک فیصلے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔‘‘“We are slipping further into Israel’s strategic orbit, at a time when the world is increasingly pivoting away from it. The Prime Minister’s visit to Israel will go down in history as a bewildering strategic decision.The spirit of Indian nationhood demands that we speak up for… pic.twitter.com/GmB28smfl1— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) June 27, 2026راہل گاندھی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھتے ہیں ’’سونیا گاندھی نے اداریہ (مضمون) کے ذریعہ حکومت ہند سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی آزاد خارجہ پالیسی کو دوبارہ مضبوط کرے، انسانی اقدار کا تحفظ کرے اور غزہ کے معاملے پر اخلاقی وضاحت اور جرأت کے ساتھ اپنی آواز بلند کرے۔‘‘ انھوں نے سونیا گاندھی کی اس بات پر بھی حمایت کی کہ ’’ہندوستانی قومیت کی روح کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے حق میں آواز بلند کریں، جن کے بچوں کو بے رحمی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ہے۔‘‘قابل ذکر ہے کہ سونیا گاندھی نے اپنے مضمون میں الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت کی موجودہ خارجہ پالیسی نے ہندوستان کی روایتی اور متوازن سفارتی شناخت کو کمزور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک مغربی ایشیا میں اپنے فطری اور مؤثر کردار سے محروم ہو گیا ہے۔ سونیا گاندھی نے لکھا ہے کہ ہندوستان تاریخی طور پر فلسطین کے حق خود ارادیت، عالمی امن اور انسانی حقوق کا حامی رہا ہے، لیکن غزہ میں جاری انسانی المیے کے باوجود مرکزی حکومت کی خاموشی باعث تشویش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران فلسطین، ایران اور مغربی ایشیا کے دیگر ممالک کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلقات قائم کیے تھے، لیکن موجودہ حکومت کی پالیسیوں نے اس توازن کو نقصان پہنچایا ہے۔مودی حکومت کی خاموشی اور اسرائیل کی جانب جھکاؤ نے ہندوستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا: سونیا گاندھیسونیا گاندھی نے مضمون میں اسرائیل کے تئیں حکومت کے بڑھتے ہوئے جھکاؤ پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ جب پوری دنیا غزہ میں ہونے والی تباہی اور عام شہریوں، خصوصاً بچوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے، تب ہندوستان کی جانب سے کوئی واضح اور مضبوط موقف سامنے نہیں آ رہا۔ سونیا گاندھی کے مطابق اگر ہندوستان اپنی روایتی خارجہ پالیسی پر قائم رہتا تو آج وہ مغربی ایشیا میں ایک مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا تھا۔کانگریس کی سینئر لیڈر نے اپنے مضمون میں اقوام متحدہ کی مختلف رپورٹس اور بین الاقوامی اداروں کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں ہزاروں بچے مارے جا چکے ہیں، تعلیمی و طبی ڈھانچہ تقریباً تباہ ہو چکا ہے۔ یہ صورتحال محض ایک فوجی تنازعہ نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ تاہم سونیا گاندھی نے یہ بھی واضح کیا کہ حماس کی جانب سے اسرائیل پر کیا گیا حملہ ناقابل قبول اور قابلِ مذمت تھا، لیکن ان کے مطابق اس کے جواب میں اسرائیل کی فوجی کارروائیاں ضرورت سے کہیں زیادہ آگے بڑھ چکی ہیں اور ان کے نتیجے میں عام فلسطینی شہریوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔سیاسی حلقوں میں سونیا گاندھی کے اس مضمون کو مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر کانگریس کا ایک بڑا اور براہ راست حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب غزہ کی صورتحال پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے، کانگریس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطین کے مسئلے پر اپنی پوزیشن واضح کرے اور ہندوستان کی روایتی سفارتی پالیسی کے مطابق متوازن اور اصولی موقف اختیار کرے۔