واشنگٹن (27 جون 2026): ایران پر امریکا کے فضائی حملے پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا، ایران کو کوئی اختلاف ہے تو فون پر بات کر سکتا ہے۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے X پر لکھا ’’ایران نے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ ہم نے اس کی پاس داری کی ہے۔ اگر انھیں اس بات پر اختلاف ہے کہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر کس طرح عمل کیا جا رہا ہے، تو وہ فون اٹھا کر بات کر سکتے ہیں۔‘‘سینٹکام کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مقامات اور ساحلی ریڈار تنصیبات پر ایک طاقت ور حملہ کیا ہے، اور یہ کارروائی خلیج میں ایک آئل ٹینکر پر ایران کی جانب سے کیے گئے مبینہ ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ایران پر امریکی حملے کے بعد پاسداران انقلاب کا فوری ردعملایران کی پاسداران انقلاب نے امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے ہمیشہ کی طرح اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس نے مزید کہا کہ ایران کی بحریہ نے خطے میں ان مقامات کو نشانہ بنایا ہے جہاں امریکی افواج تعینات ہیں۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر جارحیت دہرائی گئی تو ہمارا جواب اس سے بھی زیادہ وسیع ہوگا۔ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے X پر کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ مذاکرات کے اصولوں کے پابند ہیں اور نہ ہی جنگ بندی کے۔ انھوں نے امریکی حملوں کو جنگ بندی کی ایک لاپرواہ خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی۔