عآپ حکومت نے پہلے مخالفت کی اور اب پنجاب میں نافذ کر دیا ’وی بی-جی رام جی‘ منصوبہ

Wait 5 sec.

پنجاب کی عآپ حکومت نے ’وی بی- جی رام جی‘ (وکست بھارت گارنٹی فار روزگار اینڈ آجیویکا مشن-گرامین) منصوبہ نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی حکومت نے اس منصوبہ کے نفاذ سے متعلق نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ یکم جولائی سے نافذ ہوگا۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ قبل میں پنجاب حکومت نے اس کے خلاف اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی تھی۔ عآپ حکومت کے اس بدلے رویہ کی وجہ سے اسے کئی حریف پارٹیوں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔पंजाब में VB-G RAM G ( Viksit Bharat Guarantee for Rozgar and Ajeevika Mission) योजना लागू हो गई है. राज्य सरकार ने स्कीम लागू करने की अधिसूचना जारी कर दी है.पूरी खबर- https://t.co/6HsrSnK026#Punjab #BhagwantMann #VBGRAMG #TV9Card pic.twitter.com/TmWkTLk3ab— TV9 Bharatvarsh (@TV9Bharatvarsh) June 27, 2026قابل ذکر ہے کہ ’وی بی- جی رام جی‘ منصوبہ کے تحت ایک مالی سال میں دیہی خاندانوں کو 125 دن کے روزگار کی ضمانت دینے کا انتظام کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ ’وکست بھارت @2047‘ کے ویژن کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت نے مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی ایکٹ (منریگا) کو منسوخ کر کے یہ نیا منصوبہ متعارف کرایا تھا۔ یہ بل گزشتہ سال دسمبر میں پارلیمنٹ سے منظور ہوا تھا، جس کے بعد اسے صدر جمہوریہ کی منظوری حاصل ہوئی تھی۔کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت نے 2005 میں منریگا شروع کیا تھا۔ اس کے تحت دیہی خاندانوں کو سال میں 100 دن کام ملنے کی ضمانت دی گئی تھی۔ اب نئے قانون کے تحت ضمانت شدہ روزگار کے دنوں کی تعداد بڑھ کر 125 ہو گئی ہے۔ حالانکہ اس منصوبہ میں کچھ ایسے اصول و ضوابط ہیں، جس پر اپوزیشن پارٹیوں نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔The Government of Punjab has officially implemented the Viksit Bharat–Guarantee for Employment and Livelihood Mission (Gramin), also known as the VB-G-RAM-G scheme, for the year 2026.​As per the official Gazette notification published on June 26, 2026, rural households in the… pic.twitter.com/PuLks2Z2T7— United News of India (@uniindianews) June 26, 2026غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اپوزیشن کی حکومت والی 5 ریاستوں (کرناٹک، کیرالہ، پنجاب، تلنگانہ اور جھارکھنڈ) نے ’وی بی-جی رام جی‘ ایکٹ کی مخالفت کرتے ہوئے اور منریگا اسکیم کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور قراردادیں بھی منظور کی تھیں۔ پنجاب حکومت نے دلیل دی تھی کہ ’وی بی جی رام جی‘ ایکٹ کا خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندانوں، درج فہرست ذاتوں کی برادریوں اور دیہی مزدوروں پر منفی اثر پڑے گا، جو اپنی روزی روٹی کے لیے منریگا پر انحصار کرتے ہیں۔ تاہم، مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے اعتماد ظاہر کیا تھا کہ یہ منصوبہ مزدوروں کی زندگی میں ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس منصوبہ سے آبی تحفظ اور دیہی بنیادی ڈھانچے کی ترقی جیسی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور سڑکیں، پل، اسکول اور آنگن واڑی عمارتیں تعمیر کی جا سکیں گی۔