تہران (23 جون 2026): 6 ارب ڈالر کی خریداری کہاں سے کی جائے گی، مرکزی بینک ایران کے گورنر نے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت بحال ہونے والے ایرانی فنڈز سے تہران امریکی مصنوعات خریدنے کا پابند نہیں ہے۔ایران کے مرکزی بینک کے گورنر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ ایران کے لیے جاری کیے گئے فنڈز امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری پر خرچ کیے جائیں گے۔گورنر مرکزی بینک ایران عبدالناصر ہمتی نے تسنیم نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تہران پر ایسی کوئی پابندی عائد نہیں ہے، ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت جاری کیے گئے پہلے 6 ارب ڈالر ’’بنیادی اشیا اور ادویات‘‘ کی خریداری کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔امریکیوں کے ساتھ ایک فریم میں آنے سے انکار کیوں کیا تھا؟ باقر قالیباف نے وجہ بتا دیانھوں نے کہا ’’ہم امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کے پابند نہیں ہیں، ایران امریکی مصنوعات پر اسی صورت غور کرے گا جب ان کی قیمت اور معیار دیگر ممالک کے متبادل مصنوعات کے مقابلے میں زیادہ مسابقتی ہوں۔عبدالناصر ہمتی نے کہا باقی 6 ارب ڈالر لازمی طور پر بنیادی اشیا تک محدود نہیں ہوں گے اور انھیں دیگر غیر پابندی والی مصنوعات کی خریداری کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے تہران کو ان فنڈز کے استعمال میں لچک حاصل رہے گی۔انھوں نے واضح کیا کہ امریکی مصنوعات کی خریداری لازمی نہیں ہے، قیمت جہاں مناسب ہوگی وہاں سے سامان خریدیں گے۔