فرانس میں سڑکوں پر شراب نوشی پر پابندی لگ گئی

Wait 5 sec.

پیرس (23 جون 2026): شدید ہیٹ ویو کے باعث فرانس کے نصف سے زائد حصے میں ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے، کیوں کہ ملک بھر میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، کچھ علاقوں میں درجہ حرارت 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کے بعد متعدد فرانسیسی شہروں نے سالانہ میوزک فیسٹیول کے تحت طے شدہ تقریبات بھی منسوخ کر دی ہیں۔اسی دوران فرانسیسی حکام نے سڑکوں پر شراب نوشی پر بھی پابندی عائد کر دی ہے اور مقامی ایونٹ منتظمین کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ موسمی حالات کے مطابق تقریبات میں تبدیلی کریں۔فرانس اپنی حالیہ ہیٹ ویو کے دوران اب تک کے سب سے گرم دن کا سامنا کرنے والا ہے، جہاں شدید گرم رات کے بعد جنوب مغربی علاقوں میں درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ شدید موسمی صورت حال 2003 کی ہیٹ ویو جتنی سنگین ثابت ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں تقریباً 15 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔فرانس تاریخی حد تک بلند درجہ حرارت کا سامنا کر رہا ہے، 23 جون کو فرانس بھر میں لاکھوں افراد شدید گرمی کے باعث پسینے میں شرابور ہو کر بیدار ہوئے، اس وقت ملک کی زیادہ تر آبادی انتہائی اور غیر معمولی درجہ حرارت کی زد پر ہے۔فرانس میں لوگ شدید گرمی سے مرنے لگےفرانس ایک ایسا ملک ہے جہاں ایئر کنڈیشننگ عام نہیں ہے، اس لیے اسکول، ٹرین سروسز اور کھیلوں کی سرگرمیاں بدستور متاثر ہیں، جب کہ ہفتے کے اختتام سے اب تک ڈوبنے سے تقریباً 20 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ دو بچے گھر کے باہر کار میں رہ جانے سے گرمی کے باعث ہلاک ہو گئے، اور بزرگ شہری ہیٹ ویو کے دوران طبیعت بگڑنے پر جان سے گئے۔وزیراعظم سباستیاں لیکورنو کے دفتر نے کہا کہ ’’ریاست اور اس کے ذیلی اداروں کی جانب سے منعقد کیے جانے والے تمام پروگراموں میں ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ شراب پیش نہ کی جائے۔‘‘ حکومت کے مطابق شراب نوشی پر عائد پابندیوں کا مقصد ’’ہنگامی اور طبی خدمات کو برقرار رکھنا اور طبی عملے کو سب سے زیادہ متاثر اور کمزور افراد کی دیکھ بھال پر توجہ دینے کا موقع فراہم کرنا ہے۔‘‘شدید گرمی کے باعث فرانسیسی حکومت نے 800 سے زائد اسکولوں کو بند کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔