خزانہ خالی لیکن گھوٹالے بازوں کی جیبیں بھری ہیں: تیجسوی یادو

Wait 5 sec.

بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد اور آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے اتوار کے روز ریاستی حکومت پر بدعنوانی، مالیاتی بدانتظامی اور سرکاری منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کو لے کر جم کر حملہ بولا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست کا خزانہ خالی ہو چکا ہے، جبکہ بدعنوانی میں ملوث افراد اور مبینہ گھوٹالے بازوں کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔بی جے پی کی سیاست ڈرانے، دھمکی اور لالچ پر مبنی ہے، ٹی ایم سی میں مچی بھگدڑ پر تیجسوی یادو کا بیانپٹنہ میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران تیجسوی یادو نے کہا کہ حکومت کے پاس ملازمین کو وقت پر تنخواہ دینے، طلبہ کو اسکالرشپ فراہم کرنے، پنشن ہولڈرز کو ادائیگی کرنے اور کسانوں کے بقایا جات ادا کرنے تک کے لیے کافی وسائل نہیں ہیں۔ دوسری طرف بدعنوان لوگوں اور گھوٹالے بازوں کی جیبیں مسلسل بھر رہی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بہار میں بڑے مالی گھوٹالوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات نہیں ہو رہی ہے، نہ تو ریاست کی تحقیقاتی ایجنسیاں اور نہ ہی مرکزی ایجنسیاں مبینہ بے ضابطگیوں کی سنجیدگی سے تحقیقات کر رہی ہیں۔تیجسوی یادو نے دعویٰ کیا کہ اگر غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے تو کئی بڑے نام سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے ’رِشو شری‘ معاملے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک معمولی ٹھیکیدار مبینہ طور پر کئی محکموں کے ٹینڈر کیسے حاصل کر رہا تھا۔ آر جے ڈی لیڈر نے سوالیہ انداز میں کہا کہ اس معاملے میں مبینہ طور پر شامل بڑے ذمہ دار لوگوں پر کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ ساتھ ہی انہوں نے ’رِشو شری‘ معاملہ سمیت مختلف مبینہ مالی بے ضابطگیوں پر حکومت سے تفصیلی وضاحت دینے کا مطالبہ کیا۔آر جے ڈی لیڈر نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے ایمرجنسی فنڈ سے رقم نکالے جانے کی بھی بات کہی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست میں بڑے پیمانے پر ہونے والی بدعنوانی کے معاملات میں بااثر لوگوں کو بچایا جاتا ہے، جبکہ چھوٹے ملازمین کے خلاف کارروائی کر کے معاملے کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی ترجیح بدعنوانی پر قابو پانے کے بجائے مبینہ طور پر قصورواروں کو تحفظ فراہم کرنا بن گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کو تیجسوی یادو نے ناعاقبت اندیش، ناتجربہ کار اور صرف باتیں بنانے والا قرار دیا۔بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو ہدف تنقید بناتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا کہ ’’ریاست میں شفاف اور جوابدہ حکومت کو یقینی بنانے کے لیے ریاستی حکومت کو تمام الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانی چاہیے اور حقائق عوام کے سامنے رکھنے چاہئیں۔‘‘