لکھنؤ کے علی گنج میں کوچنگ سنٹر میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ اس حادثے میں 15 معصوم بچوں کی دردناک موت ہو گئی تھی۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے یہ ایک ایسا زخم ہے جو عمر بھر رہے گا۔ دوسری جانب اب اس معاملے میں لاپرواہی برتنے والے لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے مزید 5 انجینئروں اور ملازمین پر کارروائی کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق حکومت نے لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے معروف اسسٹنٹ انجینئر سنجے شکلا، سپرنٹنڈنگ انجینئر آنند مشرا، ایگزیکٹو انجینئر شیویںدر شکلا اور جونیئر انجینئر ہیمنت کمار کے خلاف کارروائی کی ہے۔ ایل ڈی اے کے وائس چیئرمین پرتھمیش کمار نے سپروائزر کے طور پر تعینات بیلدار ہرپال کو بھی معطل کر دیا ہے۔لکھنؤ آتشزدگی: پانچ طلبہ اسپتال سے رخصت، شدید زخمی بچوں کا علاج جاریدوسری جانب اب آگ لگنے والی عمارت پر بلڈوزر کی کارروائی کی تیاری ہے۔ عمارت کے مالک ویریندر شکلا کو ڈیمولیشن کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جیل میں جا کر ان کو یہ نوٹس تھمایا گیا ہے۔ جس کثیر المنزلہ عمارت میں کوچنگ سنٹر چل رہا تھا، اسے بغیر کسی اصول و ضوابط اور بغیر حفاظتی انتظامات کے تعمیر کیا گیا تھا۔ ہنگامی صورتحال میں باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہونے کے باعث اتنے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ جس کے بعد انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اس غیر قانونی بلڈنگ کو مکمل طور پر زمین بوس کر دیا جائے گا۔آتشزدگی کی تحقیقات میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں اور لاپرواہیوں کی بنیاد پر حکومت مسلسل کارروائی کر رہی ہے۔ اس سے قبل جونیئر انجینئر پرمود پانڈے اور اسسٹنٹ انجینئر انیل کمار کو معطل کیا جا چکا ہے۔ ایل ڈی اے نے جانچ کے بعد 18 افسران اور انجینئروں کے خلاف کارروائی کی سفارش حکومت کو بھیجی تھی۔ پہلے مرحلے میں 2 انجینئروں پر کارروائی کی گئی تھی، جبکہ اب مزید 5 افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔حکومت پہلے ان افسران کے خلاف کارروائی کر رہی ہے جو ابھی ملازمت میں ہیں۔ جن افسران کا کردار مشکوک پایا گیا ہے، ان کے خلاف محکمانہ جانچ اور معطلی دونوں کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ 22 جون کو ہونے والے اس دردناک حادثے میں 15 بچوں کی جان چلی گئی تھی۔ تحقیقات میں سنگین لاپرواہی اور بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ اس معاملے میں اب تک مجموعی طور پر 7 افسران اور ملازمین کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے۔اسی دوران حادثے میں جان گنوانے والے تمام 15 بچوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بچوں کے جسم پر جلنے یا چوٹ کے کوئی گہرے نشانات نہیں ملے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کمرے میں اچانک بہت زیادہ زہریلا دھواں بھر گیا تھا، جس کی وجہ سے بچوں کا دم گھٹ گیا اور ان کی جان چلی گئی۔ دھوئیں کے باعث کئی بچوں کے چہروں اور آنکھوں پر سوجن بھی پائی گئی ہے۔