شادی کارڈز اب کیسے ہوں گے؟ حکومت نے بڑی پابندی لگا دی، حکم عدولی پر کڑی سزا بھی

Wait 5 sec.

(29 جون 2026): آج کل شادی میں مختلف اور منفرد ڈیزائن کے دعوت نامے چھاپے جاتے ہیں مگر اب اس پر ایک حکومتی قدغن لگنے والی ہے۔شادی بیاہ کی دعوت دینے کے لیے کارڈز چھپوانا ایک پرانی رسم ہے، بدلتے زمانے کے ساتھ شادی کارڈز کے انداز بھی بدل چکے ہیں۔ نت نئے ڈیزائن اور مٹیریل کے کارڈز مارکیٹ میں دستیاب۔ان شادی کارڈز میں عموماً دولہا، دلہن کے نام، شادی کا مقام اور وقت درج ہوتا ہے۔ کچھ لوگ دعائیہ الفاظ اور خاندان نام بھی چھپواتے ہیں۔تاہم اب حکومت نے شادی کے دعوت ناموں پر بڑی پابندی عائد کر دی ہے۔ اب شادی کارڈز پر دولہا اور دلہن کی تاریخ پیدائش درج کرنا لازمی ہوگا، حکم عدولی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔شادی کارڈز کے مضمون پر یہ پابندی ریاست مہاراشٹر کی حکومت عائد کرنے جا رہی ہے، جس کا مقصد کم عمری کی شادیوں کو روکنا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق مہاراشٹر حکومت ریاست میں بچپن کی شادیوں پر روک تھام کے لیے ایک نیا قانون لانے پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت شادی کے دعوت نامے پر دلہا اور دلہن کی تاریخِ پیدائش درج کرنا لازمی ہوگا۔اس حوالے سے ریاستی وزیر برائے خواتین و اطفال کی بہبود آدیتی تٹکرے نے اسمبلی میں بتایا کہ اس اقدام سے شادی کے وقت دلہا اور دلہن کی عمر کی آسانی سے تصدیق کی جا سکے گی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کرانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔شادی کارڈز پر دولہا اور دلہن کی تاریخ پیدائش نہ لکھنے پر بہ صرف والدین بلکہ شادی کارڈ چھاپنے والے پرنٹنگ پریس، شادی ہالوں کے منتظمین اور ایونٹ آرگنائزرز کو بھی ذمہ دار بنایا جائے گا، اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ریاستی وزیر نے کہا کہ اس سے قبل راجستھان میں اسی طرح کا نظام نافذ کیا گیا تھا، جس کے بعد وہاں کم عمری کی شادیوں میں نمایاں کمی آئی تھی۔