لندن (29 جون 2026): برطانیہ نے ملک میں پناہ گزینوں کے لیے نیا نظام لانے کا فیصلہ کیا ہے جو رواں برس کے آخر تک متعارف کرا دیا جائے گا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانوی حکومت نے رواں سال کے آخر تک پناہ گزینوں کے لیے نئے، محدود اور محفوظ قانونی راستے متعارف کرانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس نظام کے تحت جامعات، کاروباری ادارے اور کمیونٹی تنظیمیں پناہ گزینوں کی اسپانسر شپ کر سکیں گی۔برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق یہ نیا نظام کینیڈا کے اسپانسر شپ ماڈل سے ملتا جلتا ہے، اس کے تحت صرف مستند ادارے ہی برطانیہ آنے کے خواہشمند پناہ گزینوں کی درخواستوں کی حمایت کر سکیں گے۔حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اسکیم مستقبل میں برطانیہ کے پناہ گزینوں کے نظام کا بنیادی حصہ بن جائے گی اور موجودہ یو کے ری سیٹلمنٹ اسکیم کے مقابلے میں زیادہ گنجائش رکھے گی۔وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے کہا ہے کہ نئی پالیسی کا مقصد حقیقی پناہ گزینوں کو تحفظ فراہم کرنا اور نظام میں موجود ان خامیوں کو بند کرنا ہے جن کا ماضی میں ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا رہا ہے۔حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ انسانی حقوق اور جدید غلامی سے متعلق قوانین کے اطلاق میں اصلاحات کی جائیں گی تاکہ بے بنیاد یا غیر سنجیدہ پناہ کی درخواستوں کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔تاہم مجوزہ تبدیلیوں کے تحت بعض مجرمان یا جعلی دستاویزات استعمال کرنے والے غیر ملکی شہری جدید غلامی کے قانون کے تحت تحفظ کے حق دار نہیں ہوں گے۔حکومت کے مطابق یونیورسٹی اسپانسر شپ پروگرام کے لیے درخواستیں رواں سال کے آخر میں کھولی جائیں گی جبکہ پہلی آمد 2027 میں متوقع ہے، اسی طرح پناہ گزینوں کے لیے روزگار پر مبنی اسپانسر شپ پروگرام آئندہ سال شروع کیے جانے کا امکان ہے۔