واشنگٹن (23 جون 2026): سوئٹزرلینڈ میں جاری امریکا ایران مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے برگن اسٹاک میں وائٹ ہاؤس رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے انسپکٹرز کو دوبارہ اپنے ملک آنے کی اجازت دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔جے ڈی وینس کے مطابق یہ امریکی عوام کے لیے ایک بڑی کامیابی اور ایران کے جوہری پروگرام کے مستقل خاتمے کی جانب پہلا اہم قدم ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئی اے ای اے انسپکٹرز اور ایرانی حکام کے درمیان ملاقاتیں ممکنہ طور پر آج ہی شروع ہو سکتی ہیں۔نائب صدر نے بتایا کہ آبنائے ہرمز اس وقت کھلی ہوئی ہے اور گزشتہ روز ہونے والے مذاکرات میں اس اہم آبی گزرگاہ کو مستقل طور پر کھلا رکھنے کے لیے ایک مؤثر طریقہ کار وضع کرنے پر توجہ دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں پیدا ہونے والے تنازعات کو کشیدگی میں بدلنے کی بہ جائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا نظام تشکیل دیا جا رہا ہے۔جے ڈی وینس نے انکشاف کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات کے بعد ایک مرحلے پر ایرانی وفد نے مذاکرات چھوڑنے کی دھمکی دی تھی، تاہم وہ مذاکراتی میز پر موجود رہے اور بات چیت رات ایک بجے کے بعد تک جاری رہی۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی تکنیکی ٹیم اب بھی برگن اسٹاک میں موجود ہے اور مذاکرات آئندہ دنوں اور ہفتوں میں جاری رہیں گے۔امریکیوں کے ساتھ ایک فریم میں آنے سے انکار کیوں کیا تھا؟ باقر قالیباف نے وجہ بتا دیانھوں نے کہا کہ ابھی مکمل معاہدہ طے نہیں پایا، تاہم ایک مضبوط بنیاد رکھ دی گئی ہے جو دونوں ممالک کو مثبت نتائج تک پہنچانے میں مدد دے سکتی ہے۔لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے سوال کے جواب میں جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا ایک ’’ڈی کنفلکشن میکانزم‘‘ قائم کرنے پر کام کر رہا ہے تاکہ کسی بھی کشیدگی کی صورت میں تمام فریق براہ راست رابطے میں رہیں۔ انھوں نے بتایا کہ گزشتہ روز اسرائیل، لبنان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکام سے بھی رابطے کیے گئے۔اسرائیلی افواج کے جنوبی لبنان سے انخلا کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر نائب صدر نے کہا کہ امریکا اسرائیل کی سلامتی اور لبنان کی خودمختاری دونوں کا تحفظ چاہتا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں اس کے کوئی علاقائی عزائم نہیں، تاہم وہ حزب اللہ کے حملوں کے خدشات کے باعث وہاں موجود ہے۔جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ امریکا ایسا نظام قائم کرنا چاہتا ہے جس کے تحت اگر مستقبل میں ایرانی اثاثے بحال کیے جائیں تو یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ رقوم ایرانی عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوں اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال نہ ہوں۔ تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ایران نے ان شرائط کو قبول کیا ہے یا نہیں۔