قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی میں ایک فیکٹری میں ہونے والے زوردار دھماکہ کے نتیجے میں 12 ہندوستانی شہریوں کی موت ہو گئی۔ اس حادثہ میں مجموعی طور پر 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ہندوستانی شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ ’’یہ انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے۔ ہمارا سفارت خانہ قطری حکام کے رابطے میں ہے اور متاثرہ ہندوستانی شہریوں کے اہل خانہ کی مدد میں مصروف ہے۔‘‘Deeply saddened by the loss of lives and injuries, including of Indian nationals, in the explosion at Qatar’s Ras Laffan Industrial City.As further details emerge, our Embassy continues to be in touch with Qatari authorities, and is reaching out to render assistance to the… https://t.co/tHifrYGvPT— Dr. S. Jaishankar (@DrSJaishankar) June 22, 2026حادثہ کے بارے میں وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا کہ ’’قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی میں ہونے والے دھماکہ میں ہندوستانی شہریوں سمیت متعدد افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی خبر سے بہت تکلیف ہوئی ہے۔ جیسے جیسے مزید معلومات سامنے آ رہی ہیں، ہمارا سفارت خانہ قطری حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’سفارت خانہ متاثرہ ہندوستانی شہریوں کے اہل خانہ کی مدد کی کوشش کر رہا ہے۔ ہماری ہمدردیاں اور دعائیں متاثرین اور ان کے خاندانوں کے ساتھ ہیں۔‘‘اس سے قبل قطر کے حکام نے بتایا تھا کہ راس لفان انڈسٹریل سٹی میں اتوار کو ایک فیکٹری میں ہونے والے دھماکہ میں ہلاک ہونے والے 13 افراد میں 12 ہندوستانی شہری شامل ہیں۔ دوحہ میں ہندوستانی سفارت خانہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’قطری حکام نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ رات راس لفان میں پیش آنے والے واقعے میں افسوس ناک طور پر 12 ہندوستانی شہریوں کی موت ہوئی ہے۔‘‘راس لفان انڈسٹریل سٹی میں برزان لوکل گیس سپلائی فیسلٹی (جسے قطر انرجی ایل این جی چلاتی ہے) میں ہونے والے دھماکہ میں متعدد ہندوستانیوں سمیت 66 افراد زخمی ہو گئے۔ قطری حکام کے حوالہ سے ہندوستانی سفارت خانے نے کہا کہ ’’تمام زخمیوں کی حالت مستحکم ہے اور انہیں مناسب علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ ہمارا سفارت خانہ قطری حکام کے ساتھ مل کر اس واقعہ سے متاثر ہندوستانی شہریوں اور ان کے خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، جس میں جاں بحق افراد کی لاشوں کو جلد از جلد ہندوستان بھیجنا بھی شامل ہے۔‘‘پیر کے روز ایک پریس بریفنگ کے دوران قطر کے وزیر توانائی سعد بن شریدہ الکعبی نے بتایا کہ اس حادثہ میں ہندوستانی اور پاکستانی نژاد 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق زخمیوں میں قطری شہریوں کے علاوہ ہندوستانی، پاکستانی، بنگلہ دیشی، کینیائی، گھانائی، تنزانیائی، نائجیریائی اور نیپالی شہری بھی شامل ہیں۔اس سے قبل ہندوستانی سفارت خانے نے بھی اس ’افسوس ناک حادثے‘ پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا تھا۔ سفارت خانے نے کہا کہ ’’اس مشکل اور چیلنجنگ وقت میں ہندوستانی سفارت خانہ اور قطر میں مقیم ہندوستانی برادری قطر کی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہم زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں اور لاپتا افراد کی سلامتی کے لیے امید اور دعا گو ہیں۔‘‘ ایک علیحدہ بیان میں قطر کی وزارت داخلہ نے بتایا کہ یہ واقعہ آپریشن کے دوران ’تکنیکی خرابی‘ کے باعث پیش آیا، جس میں مختلف ممالک کے 13 افراد ہلاک جبکہ 66 دیگر زخمی ہو گئے۔ سیکورٹی حکام نے راس لفان میں ایمرجنسی رسپانس ٹیموں کے ساتھ مل کر فوری کارروائی کی اور جائے وقوعہ پر منظور شدہ ہنگامی طریقۂ کار نافذ کیا۔ زخمیوں کو بہتر علاج کے لیے فوری طور پر طبی مراکز منتقل کر دیا گیا۔وزارت کا کہنا ہے کہ حکام حادثہ کی اصل تکنیکی وجوہات اور اس سے متعلق تمام حالات کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔ فی الحال حادثہ کے نتیجے میں کسی قسم کا رساؤ نہیں ہوا ہے اور نہ ہی اس سے عوامی سلامتی یا آس پاس کے ماحول کو کوئی خطرہ لاحق ہے۔ اس سے قبل قطر انرجی کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ یہ واقعہ اتوار کی شام برزان لوکل گیس سپلائی فیسلٹی میں آپریشن شروع کرنے کے دوران پیش آیا، جس کے باعث زبردست دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔ ایمرجنسی رسپانس ٹیم اور قطر کی سول ڈیفنس نے موقع پر پہنچ کر آگ کو تیزی سے اور مکمل طور پر بجھا دیا۔ کمپنی کے جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ضروری مینٹیننس کے باعث برزان میں پیداوار دسمبر 2025 سے مکمل طور پر بند تھی اور اسے حادثہ سے صرف 2 دن قبل پروڈکشن دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔