نئی دہلی: کانگریس کے ترجمان سریندر راجپوت نے رام مندر عطیات تنازعہ کی جانچ کے لیے قائم خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی رپورٹ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے بجائے بااثر شخصیات کو تحفظ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ پیش کر دینا ہی کافی نہیں، بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس میں کیا نتائج اور سفارشات شامل کی گئی ہیں۔سریندر راجپوت نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں زیادہ تر انتظامی نوعیت کی تجاویز دی گئی ہیں، جبکہ عوام کو اس بات کا انتظار تھا کہ بے ضابطگیوں اور مالی خردبرد کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی شفاف تحقیقات مقصود ہیں تو متعلقہ افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں اور پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقات کا رخ اصل ذمہ داروں تک پہنچنے کے بجائے محدود دائرے میں رکھا گیا ہے۔ کانگریس ترجمان کے مطابق عوامی چندوں اور مذہبی اداروں سے وابستہ معاملات میں مکمل شفافیت اور جواب دہی ضروری ہے تاکہ لوگوں کا اعتماد برقرار رہے۔’ہم نے 200 کلو چاندی دی، لیکن رسید نہیں ملی‘، رام مندر نذرانہ چوری معاملے میں کیسٹلس گروپ کے ایم ڈی کا بڑا دعویٰمولانا ارشد مدنی کے جہاد سے متعلق بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے سریندر راجپوت نے کہا کہ جہاد ایک مذہبی اصطلاح ہے جس کے مختلف مفاہیم ہیں اور اسے صرف منفی تناظر میں پیش کرنا درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض سیاسی جماعتیں ایسے بیانات کو ہندو اور مسلم برادریوں کے درمیان فاصلے بڑھانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے مجوزہ ملک گیر مہم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملک میں مذہبی معاملات مسلسل سیاسی مباحث کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی بھی مذہبی طبقے یا برادری کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو اس کے خلاف تمام شہریوں کو آواز بلند کرنی چاہیے اور انصاف کے لیے مشترکہ کوششیں ہونی چاہئیں۔رام مندر میں عطیات کی رقم کی چوری کی اعلیٰ عدالتی نگرانی میں جانچ ہو: کانگریستعلیمی شعبے سے متعلق سوال کے جواب میں کانگریس ترجمان نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اہلیت و داخلہ امتحان (نیٹ) کے پیپر لیک معاملے کے بعد اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے جواب دہی ناگزیر ہے اور حکومت کو اس سلسلے میں سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔