رام مندر فنڈ تنازعہ: ’اتنی جلدی کیا ہے، آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا‘، سپریم کورٹ نے فوری سماعت سے کیا انکار

Wait 5 sec.

رام مندر کے فنڈ میں غبن کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ اس درمیان سپریم کورٹ نے 29 جون کو نذرانہ یا عطیات میں مبینہ غبن کی غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کرنے والی عرضی پر فوری سماعت سے انکار کر دیا ہے۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس شیل ناگو کی بنچ نے کہا کہ اس معاملہ کی سماعت موسم گرما کی تعطیل کے بعد ہوگی۔ جلد سماعت کے مطالبہ پر عدالت عظمیٰ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا، اتنی جلدی کیا ہے؟‘‘#BREAKING Ram Mandir Donations Row: Supreme Court Declines Urgent Listing Of Plea Seeking SIT Probe |@DebbyJain #SupremeCourt #RamMandir #Ayodhya https://t.co/52ILV0uvfJ— Live Law (@LiveLawIndia) June 29, 2026قابل ذکر ہے کہ یہ عرضی ایڈووکیٹ اجئے کمار رائے اور دنیش کمار یادو کی طرف سے داخل کی گئی ہے۔ اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایودھیا رام مندر کا مینجمنٹ دیکھنے والے شرم رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ سے متعلق مبینہ پیسوں کی بے ضابطگیوں اور دیگر خامیوں کی جانچ کرائی جائے۔ عرضی دہندہ نے اس کے لیے سی بی آئی کی قیادت میں ایک خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔اس عرضی میں کہا گیا ہے کہ ’رام مندر ٹرسٹ‘ سے جڑے فنڈ کے مبینہ غبن اور دیگر بے ضابطگیوں کے الزامات درست ہوں یا نہیں، لیکن ان خبروں نے لوگوں کے درمیان فکر میں اضافہ کیا ہے۔ خاص طور سے ان لوگوں میں جنھوں نے ایودھیا کی باوقار وراثت اور رام مندر تعمیر کے لیے سالوں تک جدوجہد کی اور اس سے جذباتی طور پر جڑے رہے ہیں۔ عرضی میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ اتر پردیش حکومت کے ذریعہ تشکیل ایس آئی ٹی نے بغیر کسی ایف آئی آر یا مستقل مجرمانہ معاملہ درج کیے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔#BREAKING Petitioner-in-person mentions plea seeking SIT probe into the alleged embezzlement of donations received at Ram Mandir in AyodhyaBench: Justice MM Sundresh and Justice Sheel NaguCounsel: Allegations are very seriousJ Sundresh: What's the urgency?Petitioner: The… pic.twitter.com/vPFLBceogT— Live Law (@LiveLawIndia) June 29, 2026قابل ذکر ہے کہ رام مندر میں پیش نذرانہ اور عطیات کی چوری کا الزام لگنے کے بعد مندر ٹرسٹ کی گزارش پر اتر پردیش حکومت نے 13 جون کو ایک خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔ اس ٹیم کو پورے معاملے کی جانچ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ایس آئی ٹی میں لکھنؤ کے ڈویژنل کمشنر وجئے وشواس پنت، پولیس انسپکٹر جنرل (آئی جی پی) کرن اور محکمہ مالیات کے خصوصی سکریٹری نیل رتن شامل ہیں۔