کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں راجیہ سبھا کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ وہ کرناٹک سے دوبارہ منتخب ہو کر پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں پہنچے ہیں۔ ہندوستان کے نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھاکرشنن نے انہیں عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا۔ ملکارجن کھڑگے کی تقریب حلف برداری کے دوران کانگریس پارلیمانی کمیٹی کی صدر سونیا گاندھی، راجیہ سبھا میں ایوان کے لیڈر جے پی نڈا، راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نارائن سنگھ، پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو، مرکزی وزیر رام میگھوال، کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا سمیت کئی سینئر لیڈران اور معزز شخصیات موجود رہے۔Shri @kharge took the oath as a Member of the Rajya Sabha in the presence of the Hon'ble Vice President and Rajya Sabha Chairman, Shri @CPR_VP.CPP Chairperson Smt. Sonia Gandhi ji, Congress General Secretary and MP Smt. @priyankagandhi ji, and Congress General Secretary… pic.twitter.com/J51lcxHPIk— Congress (@INCIndia) June 29, 2026واضح رہے کہ ملکارجن کھڑگے فی الحال کانگریس کے قومی صدر ہونے کے ساتھ ساتھ راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف کی ذمہ داری بھی ادا کر رہے ہیں۔ حال ہی میں کرناٹک سے بلا مقابلہ منتخب ہونے کے بعد یہ ان کی نئی مدت کار ہے، جس سے وہ ایوان بالا میں اپوزیشن کی قیادت جاری رکھیں گے۔ پیر کو راجیہ سبھا رکن کے طور پر حلف لینے کے بعد ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ انہیں ایک بار پھر راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر حلف لینے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے اسے اپنے لیے قابل فخر اور بڑی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ قائد حزب اختلاف کے طور پر ایوان بالا میں عوام کی آواز بلند کرنے کی اپنی ذمہ داری کو بخوبی نبھائیں گے۔ملکارجن کھڑگے نے نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھاکرشنن اور ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نارائن سنگھ کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر ملکارجن کھڑگے نے کانگریس کی قیادت خاص طور سے سونیا گاندھی اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی، کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ اور پارٹی کارکنان کا بھی شکریہ ادا کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ عوامی زندگی اور پارلیمانی خدمات کے ان کے طویل سفر میں سب کا اعتماد اور حمایت ان کی سب سے بڑی طاقت رہی ہے۔ کانگریس صدر نے مختلف سیاسی پارٹیوں اور فلور لیڈران خاص طور سے انڈیا اتحاد اور بڑے پیمانے پر اپوزیشن کے تعاون کے لیے بھی شکریہ ادا کیا۔کانگریس کے قومی صدر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ مانسون اجلاس میں اپوزیشن پہلے سے زیادہ ہم آہنگی کے ساتھ کام کرے گا اور حکومت کو عوام کے تئیں مزید جوابدہ بنانے کی کوشش کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی سب سے بڑی ذمہ داری ملک کے عوام کے مسائل اور آواز کو پوری ایمانداری اور عزم کے ساتھ پارلیمنٹ میں اٹھانا ہے۔ ملکارجن کھڑگے نے یقین دلایا کہ وہ اس ذمہ داری کو پوری لگن کے ساتھ نبھاتے رہیں گے۔ اپنے پیغام کا اختتام ’جے باپو، جے بھیم، جے سنویدھان اور جے ہند‘ کے ساتھ کیا۔واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ہفتے 25 جون کو راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے نئے اور دوبارہ منتخب ہونے والے 10 اراکین کو راجیہ سبھا کے ایوان میں حلف اور رازداری کا حلف دلایا تھا۔ مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے متعدد راجیہ سبھا اراکین نے اپنی مادری زبان میں یہ حلف لیا تھا۔ جن اراکین نے 25 جون کو راجیہ سبھا کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہے ان میں پروین چکرورتی، دیباشیش سامنت رائے، سنا ستیش بابو، وجے چنتکایالا، بھاشیم رام کرشن، لنگام نینی رمیش، راجیش پرمانند شکلا، بید ناتھ رام، پریمل نتھوانی اور تائی تاگاک شامل ہیں۔