لکھنؤ کوچنگ سینٹر آتشزدگی: انسانی حقوق کمیشن نے ضلع مجسٹریٹ اور پولیس کمشنر سے طلب کی رپورٹ

Wait 5 sec.

نئی دہلی: قومی انسانی حقوق کمیشن نے لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں واقع ایک کوچنگ سینٹر میں 22 جون کو پیش آئے مہلک آتشزدگی کے واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے ضلع انتظامیہ اور پولیس سے دو ہفتوں کے اندر تفصیلی کارروائی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ کمیشن نے اس معاملے میں لکھنؤ کے ضلع مجسٹریٹ اور پولیس کمشنر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ حادثے کی وجوہات، اب تک کی کارروائی اور آئندہ کے اقدامات سے متعلق مکمل رپورٹ مقررہ مدت میں پیش کی جائے۔قومی انسانی حقوق کمیشن نے یہ کارروائی ایک شکایت کی بنیاد پر کی ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جس کثیر منزلہ عمارت میں آگ لگی، وہاں آگ سے تحفظ کے مناسب انتظامات موجود نہیں تھے اور عمارت کی تعمیر و استعمال کے دوران حفاظتی ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی کی گئی تھی۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ حفاظتی اصولوں کو نظر انداز کیے جانے کے باعث یہ المناک حادثہ پیش آیا۔خیال رہے کہ اس آتشزدگی میں 15 افراد ہلاک ہوئے جبکہ متعدد دیگر شدید زخمی ہوئے۔ شکایت گزار نے کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، غفلت برتنے والے ذمہ دار افسران اور متعلقہ اداروں کا تعین کیا جائے، متاثرین اور جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے اور مستقبل میں اس نوعیت کے حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔الہ آباد ہائی کورٹ پہنچا لکھنؤ کوچنگ آتشزدگی کا معاملہ، سکیورٹی ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہشکایت میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ عمارت میں آگ سے تحفظ کے معیارات، ہنگامی انخلا کے انتظامات، طلبہ اور تعلیمی اداروں کی سلامتی، آفات سے نمٹنے کی تیاریوں اور متعلقہ سرکاری محکموں و ضابطہ ساز اداروں کے کردار کی بھی جامع جانچ کرائی جائے۔ اس کے ساتھ زخمی طلبہ کو فوری اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔قومی انسانی حقوق کمیشن نے اپنے نوٹس میں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ مرکزی وزارت تعلیم کے محکمہ اعلیٰ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ کوچنگ سینٹروں کے ضابطہ کار-2024 پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ کمیشن نے متعلقہ حکام کو ان رہنما خطوط پر عمل درآمد کی رپورٹ بھی کارروائی رپورٹ کے ساتھ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔لکھنؤ سانحۂ آتشزدگی کے بعد کانپور میں سخت کارروائی، کاکادیو کے متعدد کوچنگ اداروں پر چھاپے، 30 عمارتیں سیلشکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ جس عمارت میں آگ لگی وہاں کوچنگ سینٹر کے علاوہ لائبریری، اینیمیشن اسٹوڈیو اور دیگر تجارتی ادارے بھی چل رہے تھے، جس کے باعث عمارت کی حفاظتی صورت حال اور آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر سنگین سوالات اٹھے ہیں۔ادھر اتر پردیش حکومت نے بھی واقعے کی جانچ کے لیے دو رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔ اس ٹیم میں ایڈیشنل چیف سکریٹری امرت ابھیجات اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس، لکھنؤ زون، پروین کمار شامل ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم نے 23 جون کو جائے وقوع کا معائنہ کیا تھا اور آگ لگنے کی اصل وجوہات، حفاظتی انتظامات میں ممکنہ کوتاہیوں اور ذمہ دار افراد کے تعین کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔