نئی دہلی: قومی اہلیت و داخلہ امتحان انڈر گریجوایٹ (نیٹ۔یو جی) 2026 کے پیپر لیک معاملے میں دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے 10 ملزمین کی عدالتی تحویل میں 11 جولائی تک توسیع کر دی ہے۔ پیر کے روز تمام ملزمین کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سماعت کے بعد عدالت نے انہیں مزید عدالتی تحویل میں بھیجنے کا حکم دیا۔جن ملزمین کی عدالتی تحویل میں توسیع کی گئی ہے، ان میں یش یادو، منگی لال بیوال، دنیش بیوال، وکاس بیوال، دھننجے لوکھنڈے، تیجس ہرشد شاہ، شبھم کھیرنار، منیشا واگھمارے، منیشا حولدار اور ڈاکٹر منوج شیرورے شامل ہیں۔ ان تمام ملزمین کی عدالتی تحویل پیر کو ختم ہو رہی تھی، جس کے بعد انہیں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔سماعت کے دوران عدالت نے مرکزی تفتیشی ادارے کی کارروائی اور مقدمے کی پیشرفت کا جائزہ لینے کے بعد تمام 10 ملزمین کی عدالتی تحویل 11 جولائی تک بڑھانے کا حکم جاری کیا۔اس سے قبل اسی مقدمے میں دو دیگر ملزمین، پی وی کلکرنی اور شیوراج موٹیگاؤنکر، کی عدالتی تحویل بھی 8 جولائی تک بڑھائی جا چکی ہے۔ ان دونوں کو 24 جون کو عدالتی تحویل کی مدت مکمل ہونے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں عدالت نے مزید تحویل کی منظوری دی تھی۔سی بی آئی کے مطابق، پی وی کلکرنی کو اس پیپر لیک معاملے کا اصل منصوبہ ساز قرار دیا گیا ہے۔ تفتیشی ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ لاتور کے ایک ریٹائرڈ کیمسٹری پروفیسر ہیں اور کئی برسوں تک نیٹ کے سوالیہ پرچے تیار کرنے والے پینل سے وابستہ رہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے قومی امتحانی ادارے کے طریقۂ کار کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے پونے میں خصوصی کوچنگ کلاسوں کے ذریعے طلبہ تک امتحانی پرچہ پہنچایا۔تفتیش کے مطابق، شیوراج موٹیگاؤنکر لاتور میں ایک کوچنگ ادارے کے منتظم تھے۔ ایجنسیوں کا دعویٰ ہے کہ امتحان سے تقریباً دس روز قبل ہی انہیں سوالیہ پرچہ اور اس کے جوابات موصول ہو گئے تھے۔ الزام ہے کہ انہوں نے قومی امتحانی ادارے (این ٹی اے) کے پینل سے وابستہ بعض افراد، پی وی کلکرنی اور منیشا مندارے کی مدد سے پرچہ حاصل کیا، جس کے بعد اسے کوچنگ اداروں اور بعض امیدواروں تک پہنچایا گیا۔واضح رہے کہ این ٹی اے کی جانب سے نیٹ۔یو جی 2026 کا امتحان ابتدا میں 3 مئی کو ملک بھر میں منعقد کیا گیا تھا، لیکن مبینہ پرچہ لیک کے انکشافات کے بعد امتحان منسوخ کر دیا گیا۔ بعد ازاں سخت حفاظتی انتظامات اور نگرانی کے ساتھ 21 جون کو دوبارہ امتحان منعقد کیا گیا۔ اس معاملے کی تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو کر رہا ہے اور اس سلسلے میں متعدد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔