یوکرین جنگ: روس نے امریکا کو مذاکرات کی دعوت دے دی

Wait 5 sec.

ماسکو (29 جون 2026): روس نے یوکرین کے معاملے پر امریکا کو مذاکرات کی دعوت دے دی۔نیشنل ٹی وی پر خطاب میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ ماسکو امریکا کے ساتھ مذاکرات پرراضی ہے، امید ہے امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر یوکرین جنگ کے خاتمے کے سلسلے میں مذاکرات کے لیے ماسکو آئیں گے۔پیوٹن نے کہا کہ انھوں نے الاسکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ممکنہ سمجھوتوں پر تبادلہ خیال کیا تھا، امریکا کی پیش کردہ بعض تجاویز پر آمادگی بھی ظاہر کی تھی۔ الاسکا میں زیرِ بحث آنے والے نکات پر مزید بات چیت کے لیے تیار ہوں۔پیوٹن نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ تجربہ کار سیاست دان ہیں اور اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔ایران کے خلاف جنگ ایک بڑی غلطی تھی، صدر سلووینیاروسی میڈیا کے مطابق ایک انٹرویو میں صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ اگر یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ مذاکرات ہوتے ہیں تو وہ بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں ہو سکتے ہیں۔پیوٹن نے کہا مجھے یقین ہے کہ اگر کبھی مذاکرات کی نوبت آئی تو بیلاروس ایک بار پھر ان کے انعقاد کے لیے جگہ فراہم کر سکتا ہے۔ میں الیگزینڈر لوکاشینکو کے مؤقف سے واقف ہوں، وہ پرامن ذرائع سے تنازعات کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون پر تیار ہیں۔پیوٹن نے یاد دلایا کہ 2022 میں روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کا آغاز منسک سے ہوا تھا، جب کہ 2014 کے منسک معاہدے بھی وہیں طے پائے تھے۔ انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ امریکی صدر کے ساتھ اینکریج میں ہونے والی ملاقات کے دوران کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا، اگرچہ دونوں فریقوں نے ممکنہ سمجھوتوں پر بات چیت کی تھی۔پیوٹن نے کہا ’’اینکریج میں واقعی کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا، تاہم امریکی مذاکرات کاروں نے ہم سے کچھ سمجھوتے کرنے کو کہا تھا، تاہم روس کو امریکا کی جانب سے اس کے بعد کوئی اور تجویز موصول نہیں ہوئی، ہم سے سمجھوتے کرنے کو کہا گیا، ہم نے ان تجاویز پر غور کیا اور فوری طور پر نہیں، لیکن بعد میں اینکریج جا کر کہا کہ ہم ان سے اتفاق کرتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد ہمیں امریکی فریق کی جانب سے کوئی مختلف مؤقف سننے کو نہیں ملا۔‘‘انھوں نے کہا ’’ہمیں توقع ہے کہ ایران سے متعلق موجودہ کشیدہ مرحلہ ختم ہونے کے بعد امریکی انتظامیہ کے نمائندے، جن سے ہم ماسکو میں کئی بار ملاقات کر چکے ہیں، یہاں آئیں گے۔‘‘