نئی دہلی(29 جون 2026): بنگلا دیش کی معزول اور مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے رواں سال ہی اپنے وطن واپس لوٹنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔بھارتی نشریاتی ادارے کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں شیخ حسینہ واجد کا کہنا تھا کہ وہ اقتدار کی ہوس کے لیے نہیں بلکہ بنگلا دیش کے عوام کی خدمت اور بانیِ بنگلا دیش شیخ مجیب الرحمٰن کے ‘سنہری بنگلا دیش’ کے خواب کی تکمیل کے لیے سیاست کرتی ہیں۔اپنے خلاف بنگلا دیشی عدالت کی جانب سے سنانے گئے سزائے موت کے فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے اسے انصاف کے منافی، غیر آئینی، غیر قانونی اور سراسر سیاسی انتقام پر مبنی کارروائی قرار دیا۔انہوں نے موجودہ عبوری نظام پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کو ان کی جماعت ‘عوامی لیگ’ کو قیادت سے محروم کرنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ شیخ حسینہ واجد اپنی حکومت کے خلاف طلبہ تحریک کے پرتشدد اور شدید احتجاج کے بعد عہدے سے مستعفی ہو کر اگست 2024 میں ملک سے فرار ہو کر بھارت پہنچ گئی تھیں اور وہ تب سے اب تک وہیں پناہ گزین ہیں۔Bangladesh’s Sheikh Hasina sentenced to six monthsاب شیخ حسینہ واجد نے طویل عرصے بعد ملکی سیاست میں دوبارہ سرگرم ہونے اور وطن واپسی کا ارادہ ظاہر کیا ہے جس کے بعد بنگلا دیش کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔