آسام اور اروناچل پردیش میں سیلاب نے مچائی تباہی، پل اور سڑکیں تنکے کی طرح بہہ گئے، آئندہ 24 گھنٹے انتہائی نازک

Wait 5 sec.

شمال مشرق کی 2 ریاستوں آسام اور اروناچل پردیش میں اس وقت سیلاب نے کافی تباہی مچا رکھی ہے۔ مسلسل بارش کے سبب آنے والے سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ سے اروناچل پردیش کے کئی علاقے پانی میں ڈوب چکے ہیں۔ سامنے آ رہی خبروں کے مطابق کئی سڑکیں اور پل تنکے کی طرح بہہ گئے، جس سے مقامی لوگوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی رہائشی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ اروناچل اور آسام کے کئی اضلاع سیلاب اور بارش سے متاثر ہوئے ہیں۔ آئندہ 24 گھنٹے میں مزید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ یعنی حالات بد سے بدتر ہو سکتے ہیں۔محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹے میں اروناچل کے کچھ حصوں میں 200 ملی لیٹر سے زائد بارش ہونے کا امکان ہے۔ اس کے مدنظر حکومت نے الرٹ جاری کر لوگوں سے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔ اروناچل کا پانیور ضلع سیلاب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ بارش اور سیلاب کے باعث اب تک 3 لوگوں کی موت کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ 2 دیگر لاپتہ ہیں۔ بدھ کو 35 سال کی ایک خاتون کی لاش برآمد کی گئی تھی، جبکہ ہفتہ کو ایک دیگر خاتون کی لاش ملی تھی۔ کل یعنی اتوار کو تلاشی مہم کو 5 دن ہو گئے۔ این ڈی آر ایف کی ٹیم امداد کام میں مصروف ہیں۔ اروناچل پردیش کے 10 اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں کیئی پنیور، پاپوم پاری، کرا دادی، کرونگ کومے، لوئر سبنسری، کاملے، اوپری سبنسری، مشرقی سیانگ، لیپراڈا اور لوئر سیانگ شامل ہیں۔Today, widespread destructive flooding after a river overflowed in Ledum Village, Mebo Sub-Division, East Siang District, Arunachal Pradesh, India. pic.twitter.com/gQXCAUJPuO— Weather Monitor (@WeatherMonitors) June 28, 2026دوسری جانب آسام کی صورتحال بھی خراب ہے۔ یہاں کے 6 اضلاع سیلاب کی زد میں ہیں۔ ریاست میں مسلسل شدید بارش کی اس پہلی لہر سے 6 اضلاع میں 22000 سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ دھیماجی، نلباڑی، ڈبروگڑھ، چرانگ، لکھیم پور اور کوکراجھار اضلاع میں مجموعی طور پر 22124 لوگ سیلاب کی زد میں آئے ہیں۔ دھیماجی سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے۔ یہاں پانی کی سطح بڑھنے سے 15484 لوگ متاثر ہوئے ہیں۔#WATCH | Assam: Continuous rainfall has resulted in a flood-like situation in several areas of the Dhemaji district. (28.06) pic.twitter.com/J4I9PrfDmd— ANI (@ANI) June 29, 2026این ڈی آر ایف کی 12ویں بٹالین نے دھیماجی کے لکھیپتھر تنیالی کے پاس سیلاب سے متاثرہ ڈکاری ندی میں پھنسے 24 لوگوں کو بحفاظت باہر نکالا ہے۔ اس میں 9 مرد، 8 خواتین، 5 بچے اور 2 نومولود شامل ہیں۔ آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کے مطابق دھیماجی ضلع کے 69 گاؤں میں تقریباً 16000 افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔پیر کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آسام کے وزیر اعلیٰ سے بات کی۔ اس دوران دونوں لیڈران نے آسام میں شدید بارش اور سیلاب کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے آسام کو ہر ممکن مدد کا بھروسہ دلایا۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے اتوار کو ٹویٹ کر کہا تھا کہ دھیماجی میں سیلاب کی صورتحال پر مسلسل میری نظر ہے۔ سیلاب کے باعث ہونے والی اس تباہی سے ہم کافی غمزدہ ہیں۔ اس مشکل وقت میں ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔