کانگریس نے راجناتھ سنگھ سے مانگا استعفیٰ، ’آپریشن سندور‘ پر پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے کا الزام

Wait 5 sec.

کرناٹک کانگریس کے صدر بی کے ہری پرساد نے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے پیر کے روز یہ مطالبہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران شہید ہوئے 6 فوجی جوانوں کے ناموں سے متعلق اٹھے حالیہ تنازعہ کے درمیان کیا ہے۔ ان 6 فوجیوں کے نام حال ہی میں ’قومی جنگی یادگار‘ (نیشنل وار میموریل) پر کندہ کیے گئے ہیں۔بی جے پی حکومت میں یوپی سے لے کر ایم پی اور بہار تک کروڑوں روپے کی بربادی، کانگریس نے شیئر کی نیوز رپورٹبی کے ہری پرساد نے ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے اس بیان کا حوالہ دیا ہے جو انھوں نے پارلیمنٹ میں 2025 میں دیا تھا۔ کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ وزیر دفاع نے واضح طور پر کہا تھا ’آپریشن سندور‘ کے دوران کسی بھی ہندوستانی فوجی کی جان نہیں گئی۔ اب شہید ہوئے فوجی اہلکاروں کے نام عام کئے جانے سے وزیر دفاع کے پہلے دیئے گئے بیان میں دید تضاد سامنے آ گیا ہے۔ہری پرساد نے ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ’’وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں واضح طور پر کہا تھا کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران کسی بھی ہندوستانی فوجی کی جان نہیں گئی لیکن بی جے پی حکومت کے ذریعہ بعد میں ان کے پہلے دیئے گئے بیان میں ایک سنگین تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ ہری پرساد نے مزید کہا کہ ’’اگر قومی اہمیت کے اتنے سنگین مسئلے پر پارلیمنٹ کو گمراہ کیا گیا ہے تو اس کی جوابدہی سے بچا نہیں جاسکتا۔ پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے کے لیے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کو استعفیٰ دینا چاہیے، ہمارے شہید سچائی، ایمانداری اور احترام کے مستحق ہیں، نہ کہ متضاد بیانات کے۔‘‘بتا دیں کہ مئی 2025 میں پاکستان کے خلاف 4 دنوں تک چلے ’آپریشن سندور‘ کے دوران شہید ہوئے 6 ہندوستانی سیکورٹی فورس کے جوانوں کے نام اب نئی دہلی واقع قومی جنگی یادگار پر کندہ کر دیے گئے ہیں۔ اس معاملے پر سیاست گرم ہونے کے ساتھ ہی وزارت دفاع نے ہفتے کے روز یہ واضح کیا کہ آپریشن سندور کے دوران عظیم قربانی دینے والے 6 فوجیوں کو قوم نے پہلے ہی مناسب وقت پر اعزاز سے نوازا تھا۔ وزارت نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ ان کی قربانی کو حال ہی میں ’پہلی بار‘ عوامی طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔Defence Minister @rajnathsingh categorically had told Parliament that no Indian soldiers had lost their lives during #OperationSindoor.The @BJP4India Govt's own subsequent disclosure naming the personnel who made the supreme sacrifice exposes a serious contradiction. If…— Hariprasad.B.K. (@HariprasadBK2) June 29, 2026وزارت دفاع کی ریلیز میں کہا گیا ہے کہ میڈیا کے بعض حصوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی کچھ رپورٹس میں غلط دعویٰ کیا گیا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران عظیم قربانی دینے والے 6 بہادر سپاہیوں کی قربانیوں کو حال ہی میں پہلی بار تسلیم کیا گیا ہے یا اسے منظر عام پر لایا گیا ہے۔ یہ واضح کیا جاتا ہے کہ قوم نے ان شہداء کو متعلقہ رپورٹ سامنے آنے سے پہلے ہی مناسب موقع پر خراج تحسین پیش کیا تھا۔ریلیز کے مطابق 11 مئی 2025 کو منعقدہ سرکاری پریس کانفرنس کے دوران اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) نے ان بہادر سپاہیوں کو خراج تحسین پیش کیا تھا اور آپریشن سندور کے دوران فرائض کو انجام دیتے ہوئے ان کی عظیم قربانی کا خاص طور پر ذکر  کیا تھا۔ حکومت ہند نے آپریشن سندور کے دوران شہید ہونے والے 6 فوجی جوانوں کے نام پہلی بار سرکاری طور پر جاری کئے ہیں۔ ان بہادر فوجیوں کے نام دہلی میں نیشنل وار میموریل کی ویب سائٹ کے رول آف آنر میں درج کئے گئے ہیں۔ ہندوستان نے 6 اور7 مئی 2025 کی درمیانی رات پاکستان میں واقع دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے ’آپریشن سندور‘ شروع کیا تھا۔