ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے باضابطہ طور پر مدعو کیا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ابتدائی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد حالات کشیدہ ہونے کے سبب خامنہ ای کی آخری رسومات ادا نہیں ہو پائی تھی۔ اب جبکہ آخری رسومات اور تدفین کے لیے تاریخوں کا اعلان ہو چکا ہے، تو اس میں ہندوستانی وزیر اعظم کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔खामेनेई के अंतिम विदाई कार्यक्रम का PM मोदी को न्योता, ईरानी राष्ट्रपति ने भेजा संदेशईरान के राष्ट्रपति मसूद पेजेश्कियान ने पीएम नरेंद्र मोदी को ईरान आने का न्योता दिया है.पूरी ख़बर- https://t.co/deAIPp2JgQ#Iran #PMModi #Khamenei #EAMasoudPezeshkian #IndiaIranRelations… pic.twitter.com/RXrNzv5U57— AajTak (@aajtak) June 24, 2026قابل ذکر بات یہ ہے کہ پی ایم مودی نے خامنہ ای کی وفات پر کوئی تعزیتی پیغام جاری نہیں کیا تھا۔ تاہم، انتقال کے چند روز بعد ہندوستان کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے حکومت ہند کی جانب سے تعزیتی کتاب پر دستخط کرنے کے لیے نئی دہلی واقع ایرانی سفارت خانہ کا دورہ کیا تھا۔ اب خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی دعوت سے چہ می گوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ یہ دیکھنے والی بات ہوگی کہ پی ایم مودی اس دعوت نامہ کو قبول کریں گے یا نہیں۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ وزیر اعظم آخری رسومات میں شرکت کریں گے یا نہیں۔اس سے قبل مئی 2024 میں ایران کے اس وقت کے صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثہ میں موت کے بعد ہندوستان نے ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا تھا۔ رئیسی کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے ہندوستان نے ایک وفد بھیجا تھا، جس کی قیادت اس وقت کے نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے کی تھی۔ اس لیے عین ممکن ہے پی ایم مودی بذات خود آخری رسومات میں شامل نہ ہوں اور تعزیت و ہمدردی کے لیے کوئی دوسرا راستہ اختیار کریں۔Iranian President Masoud Pezeshkian has formally invited Narendra Modi to attend the state funeral ceremonies of Ayatollah Ali Khamenei, scheduled between July 4 and July 9.The funeral will begin in Tehran and conclude in Mashhad, with large public gatherings expected. India is… pic.twitter.com/KZxwtat75y— Mid Day (@mid_day) June 24, 2026واضح رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی طویل المدت آخری رسومات ان کی وفات کے 4 ماہ بعد ادا کی جا رہی ہیں۔ آخری رسومات کا آغاز 4 جولائی کو تہران کے گرینڈ مصلیٰ کمپلیکس میں ان کے جسد خاکی کو عوامی دیدار کے لیے رکھنے سے ہوگا۔ اس کے بعد تہران اور قم میں عوامی جلوس نکالے جائیں گے۔ عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں ان کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی جائیں گی۔ دی گئی جانکاری کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای 9 جولائی کو مشہد میں امام رضاؑ کے روضہ کے احاطے میں سپرد خاک کیے جائیں گے۔ مشہد خامنہ ای کا آبائی شہر بھی ہے۔ ایرانی حکام نے توقع ظاہر کی ہے کہ آخری رسومات میں لاکھوں افراد شرکت کریں گے۔بہرحال، ہندوستان اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط تعلقات رہے ہیں۔ نئی دہلی نے ایران میں متعدد منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے، جن میں چابہار بندرگاہ ایک اہم منصوبہ ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اپنے ایرانی ہم منصبوں کے ساتھ کئی مراحل میں بات چیت بھی کی تھی۔