اندرونی صفوں میں بڑی دراڑ !امیرِ طالبان کا اپنے ہی کمانڈر کیخلاف آپریشن کا حکم

Wait 5 sec.

کابل : طالبان امیر ملا ہیبت اللہ نے مقامی کمانڈرجمعہ خان فاتح کو باغی قرار دے کر ان کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم دے دیا۔تفصیلات کے مطابق افغانستان کی طالبان رجیم کی اندرونی صفوں میں ایک بڑی دراڑ سامنے آئی ہے، جہاں صوبہ بدخشاں کے انتہائی قیمتی معدنیاتی وسائل پر قبضے کی جنگ نے ایک سنگین عسکری اور سیاسی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔افغان میڈیا کی جانب سے بتایا گیا کہ طالبان کی مرکزی قیادت اور مقامی تاجک کمانڈر جمعہ خان فاتح کے درمیان معدنیات کی تقسیم پر پیدا ہونے والے اختلافات اب جنگ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔رپورٹس کے مطابق طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے مقامی کمانڈر جمعہ خان فاتح کو ‘باغی’ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف فوری اور سخت فوجی کارروائی کا حکم دے دیا۔افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی اسپیشل فورسز کا ایک بڑا قافلہ، جو کہ ہمویز، ٹرکوں اور 50 عسکری گاڑیوں پر مشتمل ہے، کمانڈر جمعہ خان کو گرفتار کرنے کے لیے بدخشاں کے ضلع شغنان روانہ کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب کمانڈر جمعہ خان فاتح نے بھی مرکزی قیادت کے خلاف بغاوت کا علم بلند کرتے ہوئے مقامی افراد کو طالبان رجیم کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور علاقے کی کانوں کا کنٹرول سنبھالنے کا حکم دے دیا۔انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، جمعہ خان نے طالبان رجیم کے خلاف باقاعدہ عسکری کارروائیوں کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے اور وہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ رجیم کے خلاف لڑنے کے لیے صوبہ بدخشاں میں 10 ہزار اور ضلع نسی میں 2500 مقامی جنگجو تیار ہیں۔دفاعی تجزیہ کاروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ افغان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں کے خلاف ناراض کمانڈروں کی یہ بڑھتی ہوئی عسکری مزاحمت مرکزی کمانڈ کے کمزور ہونے اور گہرے داخلی انتشار کا واضح ثبوت ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ اندرونی بغاوت طالبان رجیم کے نظریاتی خاتمے کی شروعات ثابت ہو سکتی ہے، جو افغانستان کو ایک بار پھر شدید اور ہولناک خانہ جنگی کی طرف دھکیل دے گی۔