اتر پردیش کے مذہبی شہر ایودھیا واقع رام مندر میں عقیدت مندوں کے ذریعہ دیئے گئے نذرانے میں مبینہ غبن کا معاملہ پورے ملک میں موضوع بحث بن گیا ہے۔ نذرانہ کی چوری سے ہوئی بدنامی کے بعد ریاستی حکومت نے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دی، جس نے منگل کو اپنی رپورٹ حکومت کو سونپ دی ہے۔ تاہم اس ہیرا پھیری سے عطیہ دہندگان میں بڑے پیمانے پر ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ اس دوران کیسٹلس گروپ آف کمپنیز کے ایم ڈی کا کہنا ہے کہ رام مندر کے لیے 200 چاندی کی اینٹیں عطیہ کی گئی تھیں لیکن اس کی رسید ہمیں نہیں دی گئی۔ عطیہ کی گئی اشیاء کا غبن کرنے والے قصور واروں کو سزا ملنی چاہئے۔رام مندر نذرانہ چوری معاملے میں ایس آئی ٹی نے جانچ رپورٹ پیش کی، کئی راز سے اٹھے گا پردہ!لداخ کی راجدھانی لیہہ میں کیسٹلس گروپ آف کمپنیز کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر راجو وی منوانی نے خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ سے کہا کہ پوری سندھی برادری کی جانب سے رام مندر تعمیر کے لیے 26 جنوری 2021 کو ایودھیا میں چمپت رائے کو 1-1 کلو گرام وزن والی 200 چاندی کی اینٹیں سونپی گئی تھیں مگر اس وقت عطیہ کے حوالے سے ہمیں کوئی رسید نہیں دی گئی۔منوانی بتاتے ہیں کہ ’’عطیہ دینے کے وقت مندر سے وابستہ لوگوں نے کہا کہ وہ پہلے چھان بین کریں گے اور طے کریں گے کہ اس کا استعمال کہاں اور کیسے کرنا ہے اور پھر ہمیں بتائیں گے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے عطیہ کے سلسلے میں کبھی سنجیدگی سے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ یہ مندر میں جائے گا یا کہیں اور۔ حالانکہ اب مسلسل خبریں دیکھنے کے بعد ہمیں فکر ہونے لگی ہے کہ کیا ہماری عطیہ کی گئی چاندی غلط جگہ چلی گئی ہے؟ اسی لیے ہم نے رسید اور اس بات کی معلومات مانگی کہ چاندی کا استعمال کہاں ہوا؟ایودھیا رام مندر کے لیے دیے گئے نذرانوں یا عطیات میں مبینہ ہیرا پھیری کے معاملے پر ایم ڈی منوانی نے کہا کہ اگر چاندی کا استعمال مندر کے لیے نہیں ہوا تو یہ بہت افسوسناک بات ہے۔ اگر مندر کے لیے دیا گیا عطیہ کہیں اور استعمال کیا جاتا ہے تو اس کا اثر مستقبل کے عطیہ دہندگان پر پڑتا ہے۔ انہوں نے اندازہ لگاتے ہوئے بتایا کہ جب ہم نے عطیہ کیا تھا، تب چاندی کی قیمت تقریباً 1.5 سے 2 کروڑ روپئے ہوا کرتی تھی لیکن آج اس کی قیمت 6 سے 7 کروڑ روپئے ہو گئی ہے۔رام مندر نذرانہ چوری معاملہ: 3 دن بعد بھی ایس آئی ٹی نے نہیں سونپی رپورٹ، سینئر عہدیداروں کو بچانے کی کوشش کا اندیشہمنوانی نے کہا کہ لوگوں کو یقینی طور پر اپنے دیئے گئے عطیات کے بارے میں پوچھنے کا حق ہے۔ چونکہ مودی اور یوگی کی قیادت میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے، اس لیے اگر ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے تو کم از کم ان قصور واروں کو سزا ملنی چاہئے جنہوں نے اس حق کا غلط استعمال کیا۔بتا دیں کہ رام مندر کے عطیات کے مالی انتظام میں مبینہ ہیرا پھیری کی تحقیقات کرنے والی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے منگل کو حکومت اتر پردیش کو اپنی رپورٹ سونپ دی تھی۔ ایس آئی ٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ ریاست کے ایڈیشنل چیف سکریٹری (ہوم) سنجے پرساد کو سونپی ہے۔ ایس آئی ٹی کے چیئرمین اور لکھنؤ کے کمشنر وجے وشواس پنت نے کہا کہ ہم نے حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی 3 رکنی ایس آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ ایڈیشنل چیف سکریٹری (داخلہ) کو سونپ دی ہے۔ یہ ایک ابتدائی رپورٹ ہے اور اسے اسی طرح ایڈیشنل چیف سکریٹری کو پیش کیا گیا ہے۔