روسی صدر نے یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات پر آمادگی ظاہر کردی

Wait 5 sec.

ماسکو(24 جون 2026): روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس اینکریج اور استنبول معاہدوں کے ساتھ ساتھ موجودہ زمینی حقائق کی بنیاد پر یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے تیار ہے۔سرکاری حکام کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات کا عمل یوکرین کی پہل پر ہی روکا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ روس استنبول میں طے پانے والے معاہدوں، اینکریج میں زیرِ بحث آنے والے طریقہ کار اور سب سے بڑھ کر موجودہ زمینی حقائق کی بنیاد پر یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے تیار ہے۔صدر پیوٹن کا مزید کہنا تھا کہ یوکرین روس کے اندرونی علاقوں پر حملے کر کے، تعطل کا شکار امن مذاکرات کی ممکنہ بحالی سے قبل اپنے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔یاد رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان گزشتہ سال استنبول میں امن مذاکرات کے تین ادوار (16 مئی، 2 جون اور 23 جولائی کو) ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں قیدیوں کا بڑا تبادلہ ہوا اور ممکنہ امن معاہدے کے لیے دونوں اطراف کے موقف پر مبنی خاکے تیار کیے گئے تھے۔بعد ازاں امریکی ریاست الاسکا کے شہر اینکریج میں امریکی اور روسی صدور کی ملاقات ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں ایک 28 نکاتی امن منصوبہ سامنے آیا، جسے بعد میں 20 نکات تک محدود کر دیا گیا تھا۔ تاہم، کہا جاتا ہے کہ یوکرین نے کسی بھی قسم کی علاقائی مراعات دینے سے انکار کر دیا تھا۔امریکی ثالثی کے تحت ماسکو اور کیئف کے درمیان رواں سال کے آغاز میں 23-24 جنوری، 4-5 فروری اور 17-18 فروری کو بھی امن مذاکرات کے تین ادوار ہوئے تھے۔ ان میں سے پہلے دو ادوار ابوظہبی جبکہ تیسرا دور جنیوا میں ہوا تھا، لیکن امریکا-اسرائیل اور ایران جنگ کے بعد یہ عمل رک گیا تھا۔واضح رہے کہ اس سے قبل 2022 میں بھی مذاکرات کے دوران روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدے کا ایک ابتدائی خاکہ استنبول میں تیار کیا گیا تھا۔