ترنمول کانگریس کے باغی گروپ نے سینئر لیڈر اروپ رائے کی صدارت میں ایک نئی قومی مجلس عاملہ (این ڈبلیو سی) کی تشکیل دی ہے اور پارٹی سپریمو ممتا بنرجی کو ہی اس میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اب ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے اس معاملے میں کہا ہے کہ 65 باغی اراکین اسمبلی کو اسمبلی سے استعفیٰ دے دینا چاہیے اور انتخاب کے ذریعہ عوام سے نیا مینڈیٹ حاصل کرنا چاہیے۔مہوا موئترا نے مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ اور بی جے پی رہنما سوویندو ادھیکاری کا ٹی ایم سی کو ’پاک‘ کرنے کے لیے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’میں انہیں بس ایک بات یاد دلانا چاہتی ہوں، وہ 65 اراکین اسمبلی جنہیں وہ اپنے قریب رکھتے ہیں یا جنہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ کنٹرول کرتے ہیں یا وہ رتبرت لابی جس کی وجہ سے سوویندو ادھیکاری اپوزیشن لیڈر بنے ان 65 لوگوں کے ریکارڈ کھول کر دیکھیے۔ کیونکہ جس دن جاوید خان سوویندو ادھیکاری دا کے آفس گئے، سوویندو دا نے ان سے ہاتھ ملایا اور ہنستے ہوئے کہا کہ اب اپنی تمام غیر قانونی تعمیرات کو قانونی کروا لو۔ انہوں نے کہا کہ یہی سسٹم ہے۔‘‘مہوا مترا نے مزید کہا کہ دہلی میں جو واشنگ مشین چلتی تھی وہ یہاں بھی چل رہی ہے۔ آج ہر کوئی ڈر کے مارے پالا کیوں بدل رہا ہے؟ چھپرہ سے جیابُر آج کیوں جا رہے ہیں؟ رکبانور کی جگہ جیابُر کو چھپرہ سے ٹکٹ دیا گیا تھا۔ آج جیابُر کیسے ہاتھ ملا رہے ہیں؟ وہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ مجھ پر بہت دباؤ ہے؟ کیسا دباؤ؟ مجھے اپنے کارکنان کو بچانا ہے۔ کارکنان خود کو اس طرح نہیں بچانا چاہتے! وہاں سے آئی ایس ایف، بی جے پی اور ترنمول کانگریس نے اپنا اپنا امیدوار اتارا تھا۔ سب کو شکست دے کر جیابُر ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر جیتے۔ کارکنان نے لڑائی لڑی۔ کارکنان کبھی یہ نہیں کہہ سکتے، بھائی صرف اپنی جان بچانے کے لیے تم آج جا کر بی جے پی میں شامل ہو جاؤ۔مہوا موئترا نے ٹی ایم سی کے باغی گروپ کو اپنے دَم پر انتخاب لڑنے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ ’’میں کہتی ہوں کہ تمام شہری اداروں اور تمام پنچایتوں کو تحلیل کر دیجیے۔ انہیں فوری طورپر تحلیل کیجیے اور کل انتخاب کرائیے۔ ان 65 اراکین اسمبلی سے استعفیٰ دلوائیے، پارٹی کا نام بدل کر ’رتبرتا کانگریس‘ یا ’جاوید خان کانگریس‘ رکھیے، جو بھی آپ کو پسند ہو اور انتخاب میں جا کر انہیں پھر سے منتخب کروائیے۔‘‘I thank Suvenduda for doing the much needed “Shuddikaran” - cleansing- of Trinamool which Mamatadi’s soft heart did not allow her to do. pic.twitter.com/83eePvPuIc— Mahua Moitra (@MahuaMoitra) June 23, 2026ٹی ایم سی لیڈر مہوا موئترا نے پارٹی کے باقی لیڈران سے یہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’باغی لیڈران کو اپنا راستہ منتخب کرنے دیں۔ باغی لیڈران میں سے کوئی بھی اپنی قابلیت کی بدولت نہیں جیتا ہے، بلکہ وہ ممتا بنرجی اور ٹی ایم سی کے انتخابی نشان کی وجہ سے جیتے ہیں۔ ممتا بنرجی اپنی پارٹی کے اراکین کے تئیں محبت اور ہمدردی کی وجہ سے جو ’تطہیر‘ نہیں کر سکیں، سوویندو ادھیکاری اور بی جے پی نے وہ ایک روز میں کر دکھایا ہے اور میں اس کے لیے ان کی شکرگزار ہوں۔