سرکاری اسپتال میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو سونے کی انگوٹھی ملے گی

Wait 5 sec.

(24 جون 2026): سرکاری اسپتالوں میں بچوں کی پیدائش کو فروغ ہونے دینے کیلیے اسکیم متعارف کروا دی گئی، جس کے تحت سرکاری اسپتال میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو سونے کی انگوٹھی دی جائے گی۔انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں تمل ناڈو حکومت نے ماؤں اور بچوں کی صحت کو بہتر بنانے کیلیے فلاحی قدم اٹھاتے ہوئے باضابطہ طور پر اسکیم کا اعلان کر دیا، جس کا نام ’تھائی ماما تھنگا موتھیرا تھٹم‘ رکھا گیا ہے۔اسکیم کے تحت تمل ناڈو کے سرکاری اسپتالوں میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو تحفے کے طور پر 1 گرام سونے کی انگوٹھی دی جائے گی، اس کا مقصد غریب خاندانوں کی مدد کرنا اور سرکاری اسپتالوں میں بچوں کی پیدائش کو فروغ دینا ہے۔تمل ناڈو حکومت نے اس اسکیم کیلیے ہر سال 755.83 کروڑ روپے کا بجٹ مقرر کیا ہے۔وہ تمام بچے جو 22 جون 2026 یا اس کے بعد سرکاری اسپتالوں میں پیدا ہوئے ہیں، وہ سونے کی انگوٹھی کے حقدار ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ وجے باضابطہ طور پر اس اسکیم کا آغاز 15 ستمبر کو سی این اناڈورائی کے یوم پیدائش پر کریں گے۔اسکیم حکومت کے وسیع تر وژن ویٹری تملھگم کا حصہ ہے، جس کا مقصد ماؤں اور بچوں کو مکمل تحفظ اور مدد فراہم کرنا ہے۔سرکاری بیان کے مطابق، یہ اسکیم نئی ماؤں کی عزت افزائی اور مدد کیلیے بنائی گئی ہے۔ تمل ثقافت میں سونے کی انگوٹھی کو خوشحالی اور اچھائی کی علامت مانا جاتا ہے، اس لیے یہ تحفہ جذباتی اور ثقافتی بندھن کو مضبوط کرے گا۔اس اقدام سے ریاست بھر کے ہزاروں خاندانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ پیدائش کے وقت ہی یہ مدد ملنے سے غریب خاندانوں کے اخراجات کم ہوں گے اور سرکاری اسپتالوں پر عوام کا اعتماد بڑھے گا۔یہ تمل ناڈو کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا بڑا فلاحی اعلان ہے جو خاص طور پر سرکاری اسپتالوں میں پیدا ہونے والے نومولود بچوں کیلیے کیا گیا ہے۔