اسپیس ایکس : ایلون مسک کو ایک دن میں 400 ارب ڈالر کا تاریخی نقصان

Wait 5 sec.

نیویارک : امریکی خلائی و ٹیکنالوجی کمپنی اسپیس ایکس کو گزشتہ روز بہت بڑے اور تاریخی مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، ایک دن میں 400 ارب ڈالر ڈوب گئے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی بانڈز کی بڑھتی ہوئی پیداوار (ییلڈز)، شرح سود میں اضافے کے خدشات اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کے باعث ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں وسیع پیمانے پر فروخت دیکھی گئی، جس سے اسپیس ایکس بھی بری طرح متاثر ہوئی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کی کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں ایک ہی دن میں تقریباً 400 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی، امریکی اسٹاک مارکیٹ میں اسپیس ایکس کے شیئرز میں 3 فیصد کمی دیکھی گئی تھی، جبکہ گزشتہ روز کاروبار کے اختتام پر کمپنی کے حصص 16اعشاریہ4 فیصد گر کر 154 اعشاریہ 60 ڈالر پر بند ہوئے۔11جون کو ہونے والی 86 ارب ڈالر مالیت کی ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کے بعد حاصل کی گئی ریکارڈ بلند سطح کے مقابلے میں اسپیس ایکس کے شیئرز اب تک 31.5 فیصد گرچکے ہیں۔ اس گراوٹ کے نتیجے میں اسپیس ایکس کی مجموعی مارکیٹ ویلیو تقریباً 3 کھرب ڈالر کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر 2.03کھرب ڈالر رہ گئی۔مالیاتی تجزیوں کے مطابق 400 ارب ڈالر کا یہ نقصان کسی بھی کمپنی کی تاریخ میں ایک دن کے دوران ہونے والے دوسرے بڑے ترین مارکیٹ ویلیو نقصان کے طور پر شمار کیا جا رہا ہے۔تاہم بعد ازاں سرمایہ کاروں کی جانب سے محدود خریداری کے باعث اسپیس ایکس کے شیئرز میں 2.4 فیصد تک بہتری بھی دیکھی گئی، لیکن ماہرین کے مطابق شرح سود اور اے آئی سیکٹر سے متعلق خدشات بدستور ٹیکنالوجی مارکیٹ پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔مارکیٹ ماہرین کے مطابق یہ تیز گراوٹ امریکی سرکاری بانڈز کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ آئی ، جس سے یہ توقعات بڑھ گئی ہیں کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے فیڈرل ریزرو آئندہ مہینوں میں شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے۔