کولکاتا کے تاراتلہ علاقے میں بدھ کے روز ایک زیرِ تعمیر گودام کی چھت اچانک گرنے سے کم از کم 3 مزدور ہلاک ہو گئے، جبکہ متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔ حادثے کے فوراً بعد بڑے پیمانے پر امدادی اور بچاؤ کارروائی شروع کر دی گئی، جس میں مختلف ایجنسیوں کے اہلکار شریک رہے۔حکام کے مطابق حادثہ دوپہر کے وقت پیش آیا، جب گودام میں درجنوں مزدور کام کر رہے تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق چھت گرنے کے نتیجے میں 40 سے زائد افراد متاثر ہوئے۔ امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 21 مزدوروں کو ملبے سے زندہ نکال لیا، جبکہ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔سرکاری حکام نے 3 مزدوروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ جاں بحق افراد میں دو کی شناخت روہت چودھری اور کرشنا چودھری کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ آخری اطلاع موصول ہونے تک تیسرے شخص کی شناخت کے لیے کارروائی جاری تھی۔ زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے اور ان کا علاج جاری ہے۔حادثے کے بعد شہری دفاع، محکمۂ آتش نشانی، کولکاتا پولیس، قومی آفات امدادی فورس اور ہندوستانی فوج کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔ امدادی کارکنوں نے بھاری مشینری، ہائیڈرولک کرینوں اور گیس کٹرز کی مدد سے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا۔ حکام کے مطابق 15 سے 18 افراد اب بھی ملبے میں پھنسے ہوئے تھے اور ان تک رسائی حاصل کرنے کی کوششیں جاری تھیں۔امدادی ٹیموں کا کہنا تھا کہ ملبے میں پھنسے بعض افراد سے رابطہ قائم کیا گیا تھا اور انہیں پانی اور آکسیجن فراہم کی جا رہی تھی۔ ریسکیو اہلکار انتہائی احتیاط کے ساتھ ملبہ ہٹا رہے تھے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔ ملبے میں دبے افراد کی تلاش کے لیے تربیت یافتہ کتوں کی بھی مدد لی گئی۔ریاستی حکومت نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حادثے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ابتدائی جانچ میں تعمیراتی منصوبے اور عمارت کے نقشے سے متعلق بے ضابطگیوں کے امکانات کا اظہار کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔اس واقعے کے بعد کولکاتا میں زیرِ تعمیر تجارتی عمارتوں کے حفاظتی معیار پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ انتظامیہ نے شہر میں جاری تعمیراتی منصوبوں کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے حادثات سے بچا جا سکے۔مقامی لوگوں کے مطابق حادثہ انتہائی اچانک پیش آیا، جس کے باعث مزدوروں کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔ واقعے کے فوراً بعد علاقے میں افرا تفری پھیل گئی، تاہم امدادی ٹیموں نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے بچاؤ کاموں کو منظم انداز میں آگے بڑھایا۔