امریکا کے کہنے پر بھی لبنان سے فوج نہیں نکالیں گے، اسرائیل کی ہٹ دھرمی

Wait 5 sec.

(24 جون 2026): اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان اور شام میں قائم کردہ اپنے سکیورٹی زونز سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، خواہ امریکا ہی اس کا مطالبہ کیوں نہ کرے۔اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیل کا دفاعی نظریہ یہ تقاضا کرتا ہے کہ دشمن کے علاقے کے اندر ہماری فوجی موجودگی برقرار رہے، اسرائیلی فوج کو سرحد کے اس پار دشمن کے علاقے میں ہونا چاہیے تاکہ وہیں سے سرحد کے اندر رہتے ہوئے اپنے شہروں اور آبادیوں کی حفاظت کر سکے۔اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ اسرائیل اس وقت اپنے شمالی محاذوں پر ایک جیسا حفاظتی ماڈل نافذ کر رہا ہے، جسے انہوں نے ایک طویل المدتی فریم ورک قرار دیا۔یہ بھی پڑھیں: امریکی درخواست پر شام نے لبنان میں مداخلت کرنے پر مشروط آمادگی ظاہر کر دیانہوں نے مزید کہا کہ یہ تمام تینوں سکیورٹی زونز ایک ہی ماڈل کے تحت کام کر رہے ہیں اور موجودہ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں، جب تک حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا، ہم سکیورٹی زون سے باہر نہیں نکلیں گے، اسرائیل عام شہریوں کو ان مخصوص علاقوں میں واپس آنے کی اجازت نہیں دے گا۔ان کا کہنا تھا کہ دو لاکھ شہری واپس نہیں آئیں گے، ماضی میں جب سکیورٹی زونز میں عام لوگ موجود تھے، تو دھماکے ہوتے تھے اور فوجیوں پر حملے کیے جاتے تھے، یہی وجہ ہے کہ اب ہم اس کی اجازت نہیں دے رہے، فوجی اندر رہیں گے اور عام شہری باہر۔اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیل کی حکمت عملی کا بنیادی مقصد علاقے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا ہے تاکہ دشمن کو دباؤ میں رکھا جا سکے۔’غزہ میں حماس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم وہاں سے نکل جائیں۔ یہی معاملہ لبنان میں بھی ہے۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں کا دائرہ بڑھا دیا ہے اور وہاں ایک مظبوط ماڈل قائم کر دیا ہے۔‘