’یہ آپریشن لوٹس نہیں، آپریشن کیچڑ ہے‘، ادھو ٹھاکرے کے اراکین پارلیمنٹ کو توڑنے والے ایکناتھ شندے پر کانگریس کا حملہ

Wait 5 sec.

مہاراشٹر میں ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا کو توڑنے کے لیے چلائے گئے ’آپریشن ٹائیگر‘ کے حوالے سے کانگریس نے بی جے پی کو جم کر نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے بی جے پی کے ’آپریشن لوٹس‘ کی حکمت عملی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے اسے ’آپریشن کیچڑ‘ بتاتے ہوئے کہا کہ جہاں ’کمل‘ نہیں کھل پا رہا ہے وہاں بی جے پی کیچڑ پھیلا رہی ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے بی جے پی کی ’آپریشن ٹائیگر‘ اور ’کانگریس مکت بھارت‘ مہم کا ذکر کرتے ہوئے تنقید کی اور اس ڈکیتی کے پیچھے کارفرما نیت پر سوال اٹھائے۔سنجے راؤت کا بی جے پی پر حملہ، شیوسینا کے اراکین پارلیمنٹ کو توڑنے کے لیے بڑے پیمانے پر خرید و فروخت کا الزامیاد رہے کہ حال ہی میں ادھو ٹھاکرے کے 6 اراکین پارلیمنٹ نے پارٹی سے الگ گروپ بنا کر اعلان کیا ہے کہ وہ ایکناتھ شندے کے ساتھ جائیں گے۔ انہوں نے اس سلسلے میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے بھی ملاقات کی تھی۔ پون کھیڑا نے اس پر طنز کستے ہوئے اس کارروائی کو ’آپریشن کیچڑ‘ سے تعبیر کیا۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ کیچڑ مہم ہے کیونکہ ان انتخابی حلقوں میں ’کمل‘ کھل نہیں سکا، لیکن ہمارا سوال یہ ہے کہ 240 سیٹیں جیتنے پر انہیں اتنی تکلیف کیوں ہوئی، جبکہ 400 سیٹیں بھی مل سکتی تھیں؟ اب وہ ٹی ایم سی اور شیو سینا جیسی دوسری پارٹیوں کے ممبران اسمبلی چرانے میں کیوں لگے ہوئے ہیں؟ ان کا ارادہ کیا ہے؟ کیا ان کا ارادہ واقعی میں آئین بدلنا ہے؟ اس ڈکیتی کے پیچھے کیا مقصد ہے؟قابل ذکر ہے کہ ایکناتھ شندے کی طرف سے ادھو ٹھاکرے کو یہ دوسرا جھٹکا ہے۔ شندے، جو کبھی ٹھاکرے کے قریبی تھے، اب ’اصلی‘ شیوسینا کے سربراہ ہیں۔ حال ہی میں وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی کہا تھا کہ مہاراشٹر میں صرف ایک ہی شیوسینا ہے اور اس کے سربراہ ایکناتھ شندے ہیں۔#WATCH | Delhi | On Operation Tiger, Congress leader Pawan Khera says, "This is operation 'keechad' because they could not the Lotus could not flower in these constituencies, but our question is why he is so hurt because he stopped at 240 and not 400 seats that now he is busy… pic.twitter.com/BdDCCWWlJx— ANI (@ANI) June 22, 2026واضح رہے کہ مہاراشٹر میں ادھو سے پہلے بنگال میں ممتا بنرجی کو جھٹکا لگا تھا۔ ٹی ایم سی کو بی جے پی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اس کے 20 ممبران پارلیمنٹ نے کاکولی گھوش دستیدار کی قیادت میں الگ گروپ بنا کر تریپورہ کی ایک پارٹی این سی پی آئی (جو این ڈی اے کا حصہ ہے) میں خود کو ضم کر لیا۔ اس کے علاوہ بنگال میں ٹی ایم سی کے ممبران اسمبلی نے بھی الگ گروپ بنا لیا اور اپوزیشن لیڈر بھی منتخب کر لیا۔