بیجنگ(22 جون 2026): چین نے امریکی عائد پابندیوں کا جواب دیتے ہوئے 10 امریکی فوجی کمپنیوں کی برآمدات پر پابندی لگا دی۔چین نے چینی ٹیک کمپنیوں کو امریکی دفاعی معاہدوں سے روکنے کے واشنگٹن کے حالیہ اقدام کا کرارا جواب دیتے ہوئے پیر کے روز امریکا کی 10 فوجی اور دفاعی کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔چینی وزارتِ تجارت کے مطابق ان 10 امریکی کمپنیوں کو چین سے ‘دوہرے استعمال کی اشیاء برآمد کرنے پر مکمل پابندی ہو گی۔ ان اشیاء سے مراد وہ سامان ہے جو فوجی اور غیر فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔جن کمپنیوں پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں فوجی ڈرون بنانے والے اور نایاب معدنیات کی مائننگ میں ملوث امریکی ادارے شامل ہیں۔چینی وزارت نے واضح کیا کہ یہ اقدام چین کی قومی سلامتی کے تحفظ اور امریکی حکومت کی جانب سے چینی فوجی کمپنیوں کی خود ساختہ فہرست کی غلط توسیع کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔دوسری جانب چین کی وزارتِ مالیات نے بھی ایک علیحدہ بیان میں سرکاری اداروں کو 46 امریکی کمپنیوں سے مصنوعات خریدنے سے روک دیا ہے، جن میں لاک ہیڈ مارٹن، ریتھیون اور جنرل ڈائنامکس کی متعدد ذیلی کمپنیاں شامل ہیں۔یاد رہے کہ اس ماہ کے شروع میں امریکی محکمہ دفاع نے علی بابا اور بائیڈو جیسی معروف چینی ٹیک کمپنیوں کو مبینہ طور پر چینی فوج سے روابط کے الزام میں بلیک لسٹ کر دیا تھا، جس کے بعد وہ امریکی فوجی معاہدے حاصل کرنے کے اہل نہیں رہی تھیں۔بائیڈو نے اس امریکی الزام کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا تھا۔ اس وقت چینی وزارتِ تجارت نے کہا تھا کہ امریکی پابندیاں چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان مئی میں ہونے والی ملاقات کے دوران طے پانے والے اتفاقِ رائے کے منافی ہیں۔پیر کو جاری کردہ نئے اعلانات کے تحت بیجنگ نے واضح کیا ہے کہ کسی تیسرے ملک کی کمپنیوں یا افراد کو بھی چین سے دوہرے استعمال کی اشیاء ان پابندیوں کا شکار امریکی فرموں کو منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تاہم، چینی کمپنیاں انتہائی ناگزیر اشیاء کے لیے خصوصی برآمدی منظوری کی درخواست دے سکیں گی۔