گریٹ نکوبار بندرگاہ منصوبے پر کانگریس کے سوالات، جے رام رمیش نے مرکزی وزیر سونووال کو لکھا خط

Wait 5 sec.

نئی دہلی: کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے پیر کو بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال کو خط لکھ کر گریٹ نکوبار جزیرے کے گالاتھیا کھاڑی علاقے میں مجوزہ بین الاقوامی مال برداری تبادلہ بندرگاہ منصوبے سے متعلق کئی سوالات اٹھاتے ہوئے تفصیلات اور وضاحت طلب کی ہے۔جے رام رمیش گزشتہ کچھ عرصے سے اس منصوبے کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات پر تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں اور اس سلسلے میں مرکزی وزیر ماحولیات بھوپیندر یادو کو بھی متعدد خطوط لکھ چکے ہیں۔ویڈیو: راہل گاندھی کی ماہرین سے گفتگو، گریٹ نکوبار منصوبے سے ماحولیات اور قبائلی برادریوں کو سنگین خطرات کا انتباہاپنے تازہ خط میں سابق مرکزی وزیر ماحولیات نے سربانند سونووال سے مطالبہ کیا کہ وہ اس منصوبے کے لیے نجی شعبے کی شمولیت سے متعلق ٹنڈروں کے اجرا اور نجی شریک مالک و آپریٹر کے انتخاب کے متوقع وقت کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔ انہوں نے یہ بھی جاننا چاہا کہ جب نجی شراکت کے لیے کم از کم 55 فیصد حصہ مقرر کیا گیا ہے تو کیا اس کا مطلب 100 فیصد نجی ملکیت کی اجازت بھی ہے یا سرکاری اداروں کے لیے بھی کسی کم از کم حصے کا تعین کیا جائے گا۔جے رام رمیش نے اپنے خط میں کہا کہ وہ ان تمام افراد کی نمائندگی کرتے ہوئے لکھ رہے ہیں جو گریٹ نکوبار جزیرے کے ترقیاتی منصوبے سے ممکنہ ماحولیاتی تباہی کے خدشات رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق وزارت خزانہ کی عوامی و نجی شراکت داری جائزہ کمیٹی نے 17 اور 19 مارچ 2026 کو وزارت بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی جانب سے پیش کیے گئے اس منصوبے پر غور کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ 2 اپریل 2026 کو جاری کردہ تحریری ریکارڈ میں خود وزارت نے اس منصوبے سے وابستہ دو بڑے خطرات کی نشاندہی کی تھی۔ ان میں ایک بڑے گرین فیلڈ بندرگاہ منصوبے کی تعمیر کا چیلنج اور پہلے سے قائم مال برداری تبادلہ بندرگاہوں سے تجارتی سرگرمیوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی دشواری شامل ہے۔گریٹ نکوبار منصوبہ تجارتی مفادات پر مبنی، حیاتیاتی تنوع شدید خطرے سے دوچار: جے رام رمیشA transshipment port on Galathea Bay is at the heart of the Great Nicobar Island Project that will have devastating ecological impacts. Here is my letter to the Union Minister of Ports, Shipping, and Waterways on the port that may well become part of the gigantic Modani empire pic.twitter.com/KjVLYTHraS— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) June 22, 2026کانگریس رہنما نے کہا کہ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ ان خطرات کے اعتراف اور تعمیراتی سرگرمیوں سے ہونے والے یقینی ماحولیاتی نقصان کے باوجود اس منصوبے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایسے سنگین خطرات اور ممکنہ ماحولیاتی تباہی کو نظر انداز کرنا باعث تشویش ہے اور حکومت کو اس بارے میں واضح جواب دینا چاہیے۔