واشنگٹن (22 جون 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تازہ بیان میں نیٹو اتحادیوں، خصوصاً اٹلی اور اس کی وزیرِ اعظم جورجیا میلونی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکa نے دہائیوں تک اتحادیوں کا دفاع کیا، لیکن جب وقت آیا تو وہ ساتھ کھڑے نہیں ہوئے۔ٹرمپ کے مطابق، امریکا نے نیٹو اور اٹلی کی حمایت میں ’’کھربوں ڈالر‘‘ خرچ کیے، لیکن ایران کے ’’سنگین جوہری خطرے‘‘ کے مقابلے میں اٹلی نے مؤثر کردار ادا نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ اتحادی ممالک بحران کے وقت امریکا کا ساتھ دینے میں ناکام رہے، جو ان کے بقول ’’اچھی بات نہیں۔‘‘ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اتحادی ممالک، بشمول اٹلی، امریکا پر انحصار تو کرتے ہیں لیکن جب دفاع کی ضرورت ہوتی ہے تو ’’وہ ہمارے ساتھ نہیں ہوتے۔‘‘ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل کی پوسٹ میں لکھا: ’’نیٹو اور اٹلی پر کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود، اٹلی اور اس کے وزیر اعظم نے اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کے انتہائی سنگین جوہری خطرے کے معاملے میں شامل ہونے کے بارے میں سوچنا بھی گوارا نہیں کیا، دہائیوں سے ہم ان کا دفاع کرتے آئے ہیں لیکن جب آزمائش کا وقت آتا ہے تو وہ ہمارا اور باقی دنیا کا دفاع کرنے کے لیے موجود نہیں ہوتے، یہ اچھی بات نہیں!‘‘میری فکر چھوڑیں اور اپنی مقبولیت پر توجہ دیں، میلونی کا ٹرمپ کو کرارا جوابیہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ اور میلونی کے درمیان تعلقات پہلے ہی شدید تناؤ کا شکار ہیں، بالخصوص G7 اجلاس کے بعد ذاتی نوعیت کے سخت بیانات کے بعد۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے میلونی پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ بعض معاملات میں امریکا کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کر رہیں، جب کہ میلونی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹلی اپنے قومی مفاد اور خودمختار فیصلوں کے مطابق پالیسی بناتا ہے۔گزشتہ ہفتوں میں اس تنازع نے اس وقت مزید شدت اختیار کی جب دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے بیانات کو ’’غلط‘‘ اور ’’سیاسی طور پر محرک‘‘ قرار دیا، جس کے بعد اٹلی کی طرف سے امریکا کے ساتھ سفارتی سطح پر سرد مہری بھی دیکھی گئی۔