فریقین کی تکنیکی ٹیمیں سوئٹزرلینڈ میں ہی رہیں گی اور اپنا کام جاری رکھیں گی

Wait 5 sec.

برن (22 جون 2026): امریکا اور ایران کی تکنیکی ٹیمیں سوئٹزرلینڈ میں ہی رہیں گی اور مذاکراتی سلسلے کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا کام جاری رکھیں گی۔امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں نے سوئٹزرلینڈ میں اتوار کی رات تک طویل اور مسلسل مذاکرات کیے، تاکہ وہ ایک نئے جوہری معاہدے کی جانب بڑھ سکیں اور اگلے 60 روز میں ایک حتمی معاہدے کی تشکیل کی طرف پیش رفت کر سکیں۔جھیل لوسرن سمٹ میں تقریباً بغیر وقفے جاری رہنے والے مذاکرات اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ دونوں فریق نمایاں اختلافات کے باوجود رابطے میں ہیں اور علاقائی سلامتی سے متعلق وسیع تر بات چیت کی بنیاد رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایک امریکی سفارت کار نے امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تکنیکی ٹیمیں ہفتے کے باقی دنوں میں مذاکرات جاری رکھنے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں ہی موجود رہیں گی۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی خبر دی کہ ایرانی وفد سوئٹزرلینڈ سے واپس روانہ ہو گیا ہے تاہم تکنیکی ٹیمیں مذاکرات جاری رکھیں گی۔امریکا ایران نے 60 روز میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کر لیاسوئٹزر لینڈ میں 4 فریقی مذاکرات مکمل ہونے کے بعد ایرانی وفد واپس روانہ ہو گیا ہے، ایرانی وفد کے رکن مہدی قربان زادہ نے مذاکرات کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ لبنان کے مسئلے کے حل تک دیگر معاملات پر مزید پیش رفت یا تفصیلی بات چیت نہیں ہوگی، ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار استحکام کے لیے لبنان سے متعلق مسائل کا حل ناگزیر ہے۔دوسری طرف امریکی سفارت کار نے بتایا کہ ایران سے مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے، مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر مفید بات چیت ہوئی، آبنائے ہرمز سمیت ایران کے ساتھ تمام نکات پر بغیر کسی رکاوٹ کے بات چیت ہوئی، اور جوہری معاہدے کے تمام پہلوؤں پر تبادلہ خیال ہوا، جب کہ مذاکرات کا اہم محور لبنان میں جنگ بندی کو نافذ کرنے کا طریقہ کار تھا۔یہ مذاکرات نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں ہوئے، جن میں وائٹ ہاؤس کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل تھے۔ جب ہفتے کے روز جھیل لوسرن میں مذاکرات کا آغاز ہوا تو صدر ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ اور فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایران کے خلاف کئی دھمکیاں دیں۔تیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت ہوئی ہے، عباس عراقچی کا اعترافایرانی حکام نے عوامی سطح پر ٹرمپ کی دھمکیوں کو مسترد کر دیا، تاہم مذاکرات کے دوران نجی طور پر بھی یہ معاملہ اٹھایا اور کہا کہ یہ امریکا-ایران مفاہمتی یادداشت کے آرٹیکل 1 کی خلاف ورزی ہے، جس کے مطابق مذاکرات کے دوران دونوں فریق طاقت کے استعمال کی دھمکیوں سے گریز کریں گے۔ثالثی کرنے والے ممالک میں سے ایک ذریعے اور ایک امریکی سفارت کار نے بتایا کہ اگرچہ ایرانی حکام نے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں کو کہا تھا کہ وہ ٹرمپ کی عوامی دھمکیوں کے خلاف احتجاجاً مذاکرات سے نکل گئے ہیں، لیکن عملی طور پر مذاکرات پورا دن جاری رہے تھے۔ایکسیوس نے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا کہ لبنان کے بارے میں ہونے والی گفتگو ’’کشیدہ‘‘ تھی۔ حکام نے سیاسی رہنماؤں اور تکنیکی ٹیموں کے درمیان آئندہ مذاکرات جاری رکھنے کے لیے ایک فریم ورک پر بھی گفتگو کی۔ امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کے نمائندے مذاکرات کی پیش رفت سے مطمئن دکھائی دیے۔ ان مذاکرات میں ایک ابتدائی خاکہ تیار کرنے میں کامیابی ملی ہے جو آئندہ ہفتوں میں ہونے والی تکنیکی بات چیت کی رہنمائی کرے گا۔واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے یہ مذاکرات 18 گھنٹے جاری رہے اور امریکا اور ایران نے 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا۔