جرمنی نے آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمہ دار ٹرمپ کو قرار دے دیا

Wait 5 sec.

برلن(22 جون 2026): جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمہ دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹھہراتے ہوئے عالمی توانائی کی سیکیورٹی کے پیش نظر اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔جرمن نشریاتی ادارے ‘اے آر ڈی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے بورس پسٹوریئس کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، نہ کہ ہم، لیکن اس بندش کو ختم کروانا اب ہمارے مفاد میں ہے۔انہوں نے واشنگٹن کی ایران پالیسی سے جرمنی کے فاصلے کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم گزرگاہ کو کھولنا اور وہاں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا یورپ کے اقتصادی استحکام اور توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے غیر معاندانہ ممالک کو جہاز رانی کی آزادی دینے کی لچک کے باوجود امریکا نے آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کر دی تھی، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا اور دنیا کو توانائی کے بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔۔یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب امریکا اور ایران کے درمیان لبنان پر فوجی جارحیت روکنے کا معاہدہ طے پانے کے باوجود اسرائیلی حملے جاری رہے، جس کے ردعمل میں ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کر دیا۔جرمن وزیر دفاع نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران اور عمان کے ساتھ سفارتی تعاون اور ہم آہنگی کی ضرورت ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ جرمنی نے ممکنہ فوجی مشن کی تیاری کے طور پر دو بحری جہاز بحیرہ احمر کی طرف روانہ کر دیے ہیں، تاہم مائنز صاف کرنے کے کسی بھی آپریشن کے لیے ایران اور عمان کی منظوری لازمی ہوگی۔دوسری جانب جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے بھی اس موقف کو دہرایا ہے کہ جرمنی اس جنگ کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس براہِ راست تصادم میں شامل ہونا چاہتا ہے۔امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیش رفت: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گر گئیں