مرکزی حکومت، آئی 4 سی اور دہلی پولیس سمیت دیگر پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے لاکھ بیداری پروگراموں کے باوجود بیرون ملک بیٹھے سائبر جعلساز مسلسل لوگوں کی جیب خالی کر رہے ہیں۔ دہلی پولیس کے انٹیلی جنس فیوژن اور اسٹریٹجک آپریشنز (آئی ایف ایس او) کے مطابق جعلسازی کرنے والے لوگ جنوری 2026 سے اب تک دہلی کے باشندوں کی جیبوں سے تقریباً 480 کروڑ روپئے نکال چکے ہیں۔ یہ صرف آئی ایف ایس او میں جعلسازی کے درج مقدمات کی رقم ہے۔ڈیجیٹل گرفتاری سائبر کرائم کیس میں بینک منیجر گرفتار، فراڈ میں شامل ہونے پر سی بی آئی کی کارروائیآئی ایف ایس او کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس ونیت کمار نے اس بارے میں اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایف ایس او نے لوگوں کے 150 کروڑ روپئے سے زیادہ کی رقم مختلف بینکوں میں منجمد کر دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس نے یہ بھی بتایا کہ سابق وزیر اعظم آئی کے گجرال کے بیٹے اور راجیہ سبھا رکن رہے نریش گجرال سے دھوکہ دہی معاملے میں نونیت کو گزشتہ اتوار کو پنجاب سے گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ یہاں ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت کرتا تھا۔ اس نے کمیشن کی لالچ میں دھوکہ دہی کی رقم مانگنے کے لیے ایک شخص کو اپنا بچت بینک اکاؤنٹ فراہم کیا تھا۔ نونیت کے بینک اکاؤنٹ میں تقریباً 4 لاکھ روپے جمع کیے گئے تھے۔پولیس کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جعلسازوں نے پیسوں کو چھپانے کے لیے کئی تہیں بنائی تھیں۔ دھوکہ دہی کی پوری رقم سب سے پہلے 4 میول بینک اکاؤنٹ میں منگوائی گئی تھی۔ یہ اکاؤنٹ مہاراشٹر، تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں ہیں۔ چاروں اکاؤنٹس میں پیسے آتے ہی، کچھ ہی منٹوں کے اندر اس رقم کو دوسری لیئر کے قریب 40 سے زائد اکاؤنٹس میں منتقل کر دی گئی۔ گرفتار ملزم نونیت دوسری لیئرکا اکاؤنٹ ہولڈر ہے جس کے اکاؤنٹ میں دھوکہ دہی کے 5 لاکھ روپئے منتقل کئے گئے تھے۔ پولیس اب پوری منی ٹریل (پیسوں کے لین دین کا راستہ) کی چھان بین کر رہی ہے۔ دیگر اکاؤنٹ ہولڈرس کی شناخت کرکے انہیں پکڑنے کے لیے تلنگانہ، آندھرا پردیش اور مہاراشٹرا میں مسلسل چھاپے مارے جا رہے ہیں۔دہلی پولیس نے ’پے ٹی ایم‘ کے وائی سی کے نام پر دھوکہ دہی کرنے والے سائبر گروہ کا کیا پردہ فاش، تین گرفتارپولیس افسران کے مطابق سائبر فراڈ کرنے والوں کے آئی پی ایڈریس بیرون ملک موجود ہیں۔ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ گجراتی کمپنی سے دھوکہ دہی کی گئی رقم کا مالی لین دین ہانگ کانگ میں ہوا ہے۔ سائبر مجرموں نے نریش گجرال کی کمپنی میں محکمہ فائنانس کے ایک ملازم کو وائرس والی (ملیشیس) فائل بھیج کر اس کا فون ہیک کرلیا تھا۔ واٹس ایپ اور دیگر میسجنگ پلیٹ فارمز پر نریش کی ڈسپلے پکچر (ڈی پی) لگا دی تھی۔ جعلساز نے کاروباری ایمرجنسی کا حوالہ دے کرملازم کو فوری آر ٹی جی ایس کے ذریعہ رقم منتقل کرنے کو کہا گیا۔ ملازم نے اسے اپنے ’باس‘ کا حکم سمجھا اور 12 جون سے 16 جون کے درمیان کل 7.68 کروڑ روپئے مختلف کھاتوں میں منتقل کردیئے تھے۔