واشنگٹن (24 جون 2026): امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے سے متعلق مشترکہ قرارداد منظور کر لی۔سینیٹ میں یہ قرارداد 48 کے مقابلے میں 50 ووٹوں کی اکثریت سے منظور کی گئی۔ یہ قرارداد اس ماہ کے آغاز میں ایوانِ نمائندگان سے بھی منظوری حاصل کر چکی ہے۔واضح رہے کہ امریکی سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے، اس کے باوجود قرارداد کی منظوری کو قابلِ ذکر پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔روئٹرز نے رپورٹ کیا کہ امریکی سینیٹ نے منگل کو ایک ایسی قانون سازی کی حمایت کی ہے، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی روکنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ کانگریس کی جانب سے ریپبلکن صدر کو تازہ ترین جھٹکا ہے۔تارکین وطن کے لیے خوشخبری، امریکی وفاقی جج نے امیگریشن عدالتوں کے باہر اور اندر گرفتاریوں پر پابندی لگا دییہ قرارداد اس بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کرتی ہے جو ٹرمپ کے اپنے کچھ ری پبلکن ساتھیوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ یہ تشویش اس غیر مقبول جنگ کے حوالے سے ہے جو 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے شروع ہوئی تھی۔یہ پہلا موقع ہے جب کانگریس کے دونوں ایوانوں نے 1973 میں وار پاورز ریزولیوشن (جسے عام طور پر وار پاورز ایکٹ کہا جاتا ہے) کے نفاذ کے بعد پہلی بار کوئی ایسی قرارداد منظور کی ہے جس میں صدر کو امریکی مسلح افواج کو جنگی کارروائیوں سے ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہو۔ایران سے تیل کی خریداری 3 ممالک نے شروع کردی؟اگرچہ یہ ووٹ بڑی حد تک علامتی نوعیت کا ہی رہے گا، تاہم یہ ٹرمپ کے لیے ایک دھچکا ضرور ہے، جنھیں حال ہی تک کانگریس کے ریپبلکن اراکین کی تقریباً متفقہ حمایت حاصل تھی۔ یہ قرارداد ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب انتظامیہ کانگریس سے جنگ کے اخراجات کے لیے دسیوں ارب ڈالر کی منظوری مانگنے کا ارادہ رکھتی ہے۔سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں ٹرمپ کے ری پبلکنز کو معمولی اکثریت حاصل ہے، لیکن نومبر میں آنے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے چند اراکین نے کچھ معاملات پر صدر سے اختلاف کیا ہے۔ یہ انتخابات یہ طے کریں گے کہ پارٹی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ پائے گی یا نہیں۔حال ہی میں کچھ ریپبلکنز نے ٹرمپ کے 1.8 ارب ڈالر کے اینٹی ویپنائزیشن فنڈ پر اعتراض کیا تھا، جو ان سیاسی حامیوں کے معاوضے کے لیے ہے جن کے بارے میں ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں وفاقی حکام نے نشانہ بنایا۔ اسی طرح ان کی امیگریشن کریک ڈاؤن کے لیے 70 ارب ڈالر کا بل بھی التوا میں پڑا ہوا ہے۔منگل کو جاری ہونے والے روئٹرز اور اپسوس کے پول کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ صرف 4 میں سے 1 امریکی یہ سمجھتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ اپنے اخراجات کے لحاظ سے قابلِ جواز ہے، اور اکثریت کو خدشہ ہے کہ تہران کے ساتھ جنگ بندی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی۔سینیٹ کا ووٹ بڑی حد تک پارٹی بنیادوں پر تھا، جس میں 4 ری پبلکنز نے ایک ڈیموکریٹ کو چھوڑ کر باقی تمام ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر حق میں ووٹ دیا۔ دو ری پبلکن سینیٹرز نے ووٹ نہیں دیا۔ منگل دیر رات ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے اس ووٹ پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’’بری طرح سے وقت کے خلاف اور بے معنی‘‘ قرار دیا اور حق میں ووٹ دینے والوں پر الزام لگایا کہ وہ ایران کو ’’سکون‘‘ فراہم کر رہے ہیں اور ان کا کام ’’مزید مشکل‘‘ بنا رہے ہیں۔