امریکی درخواست پر شام نے لبنان میں مداخلت کرنے پر مشروط آمادگی ظاہر کر دی

Wait 5 sec.

دمشق (23 جون 2026): امریکی درخواست پر شام کے صدر احمد الشرع نے لبنان میں مداخلت کرنے پر مشروط آمادگی ظاہر کر دی۔ٹی وی چینل المشھد کو اتوار کے روز انٹرویو میں شامی صدر احمد الشرع نے کہا کہ ان کا ملک صرف لبنانی حکومت کی درخواست پر لبنان میں مداخلت کرے گا، تاہم انھوں نے واضح کیا کہ شام لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی وہاں کوئی فوجی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔احمد الشرع کا کہنا تھا کہ لبنان اور شام کے درمیان فوجی نہیں بلکہ اقتصادی روابط اور تعاون کے راستے تلاش کر رہے ہیں، اگر شام اور لبنان کے قومی مفاد میں ہوا تو وہ حزب اللّٰہ کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہیں۔یاد رہے کہ اتوار کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ اس بات پر مایوس ہیں کہ اسرائیل حزب اللہ کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکا، انھوں نے حزب اللہ کے خلاف لڑائی کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ ’’میں تقریباً یہ معاملہ شام کے حوالے کرنے کے قریب ہوں۔‘‘ امریکی صدر کے بیان سے ایسا لگا جیسے شامی فوجیں کل ہی لبنان میں داخل ہو رہی ہوں۔امریکیوں کے ساتھ ایک فریم میں آنے سے انکار کیوں کیا تھا؟ باقر قالیباف نے وجہ بتا دیاس بیان پر صدر احمد الشرع نے تردید کی کہ ان کا ملک لبنان میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کا خواہاں ہے۔ اے ایف پی کے مطابق شام کے صدر نے کہا کہ انھوں نے تجویز پیش کی تھی کہ لبنان جنگ کو ختم ہونا چاہیے اور اس کے متعدد حل موجود ہونے چاہئیں جن میں اقتصادی، سیاسی اور سماجی حل شامل ہیں، اور شام اور لبنان کے درمیان تعلقات کی بحالی اور ایک اہم اقتصادی رابطے کا قیام بھی ضروری ہے۔واضح رہے کہ حزب اللہ نے شام کی خانہ جنگی کے دوران طویل عرصے تک بشار الاسد کی حکومت کا ساتھ دیا، جس کے باعث 2024 میں سابق صدر کا تختہ الٹنے والی نئی شامی قیادت اور اس گروہ کے درمیان گہری دشمنی پائی جاتی ہے۔چاہتا ہوں شامی صدر حزب اللہ کے خلاف کارروائی کریں، ٹرمپشامی صدر نے کہا کہ ’’شام کے پاس لبنان کے اندر مثبت اثر ڈالنے کے کئی ذرائع موجود ہیں، لیکن یہ بنیادی طور پر لبنان کی رضامندی پر منحصر ہے۔ شام لبنان کی داخلی صورت حال کے حوالے سے بہت فکر مند ہے کیوں کہ لبنان کا امن و استحکام شام کے امن و استحکام کا حصہ ہے۔‘‘جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ حزب اللہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے تو انھوں نے کہا ’’اگر یہ لبنان کے مفاد میں ہو اور اس سے شام کے مفادات کا تحفظ بھی ہو تو کیوں نہیں؟‘‘