نئی دہلی(23 جون 2026): بھارت میں نوجوانوں اور نئی نسل کی ابھرتی ہوئی تحریک مودی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی امتحان بن گئی ہے۔کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نامی یہ تنظیم اپنے مطالبات پر ڈٹ گئی ہے اور عوامی سطح پر اس کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ مودی سرکار کی ناکام پالیسیوں کے خلاف سوشل میڈیا سے شروع ہونے والی یہ مہم اب ایک طاقتور تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔بین الاقوامی میڈیا ادارے ‘الجزیرہ’ کی رپورٹ کے مطابق، نئی دہلی میں جاری یہ دھرنا وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے تک جاری رہے گا۔ نئی دہلی کی شدید ترین گرمی کے باوجود مظاہرین نے عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے راتیں سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر گزاری ہیں۔کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجت دیپکے نے اس آن لائن احتجاج کو کامیابی سے سڑکوں پر منتقل کیا ہے۔ امتحانی پرچے لیک ہونے کے اسکینڈلز اور ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے بھارتی نوجوانوں میں شدید غصہ پیدا کیا ہے۔انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق سی جے پی کے بانی ابھیجت دیپکے نے امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف کسانوں سے بھی حمایت کی اپیل کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جب کسان اپنے حقوق کی جدوجہد کر رہے تھے تو طلبہ نے ان کا بھرپور ساتھ دیا تھا، اور اب وقت آگیا ہے کہ کسان بھی طلبہ کے حقوق کے لیے ان کا ساتھ دیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ‘جین زی’ احتجاج بھارتی نوجوانوں میں پائی جانے والی وسیع معاشی و سماجی بے چینی کا محض ایک آغاز ہے۔دوسری جانب ‘ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ’ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ بھارت کا موجودہ احتجاج سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال کی طرز پر ابھرنے والی عوامی تحریکوں کی ہی ایک کڑی ہے۔مبصرین کے مطابق، کاکروچ جنتا پارٹی کی اس تحریک نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کی نااہلی کو بے نقاب کر دیا ہے اور یہ تحریک بھارتی نوجوانوں کے سلگتے ہوئے مسائل کو عالمی اور ملکی سطح پر بھرپور انداز میں اجاگر کر رہی ہے۔