’ٹرمپ کو خوش کرنا بند کیجیے، ملک کے مفاد میں تجارتی معاہدے پر دستخط نہ کریں‘، کانگریس کا پی ایم مودی کو مشورہ

Wait 5 sec.

امریکی کاروباری نمائندہ جیمیسن گریر ہندوستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں۔ اس موقع پر کانگریس نے وزیر اعظم مودی کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں (مودی) اپنے دوست ڈونالڈ ٹرمپ کو خوش کرنا بند کرنا چاہئے۔ پارٹی کے مطابق ہندوستان کو کسی ایسے تجارتی معاہدے پر دستخط کرنے سے گریز کرنا چاہئے جو ملکی مفاد کے خلاف ہو۔جے رام رمیش کا مودی حکومت پر سخت حملہ، غزہ اور لبنان پر خاموشی کو اخلاقی بزدلی قرار دیاکانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پر اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کو ملیشیا سے تحریک لینی چاہئے۔ ملیشیا نے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امریکہ کے ساتھ اپنا تجارتی سمجھوتہ منسوخ کر دیا تھا۔ کانگریس لیڈر نے بتایا کہ 6 فروری 2026 کو ہندوستان اور امریکہ نے کاروبار کے حوالے سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا۔ اس وقت راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں چین کے معاملے پر حکومت کو گھیرا تھا۔جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ اسی دباؤ میں یہ بیان آیا تھا۔ اس سمجھوتے کے تحت امریکہ نے ہندوستانی برآمدات پر ٹیکس 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے عوض ہندوستان نے امریکی زراعت اور صنعتی مصنوعات پر ٹیکس ختم کرنے یا بہت کم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان نے 5 سال میں امریکہ سے 500 ارب ڈالر کا سامان خریدنے کی بات کہی تھی۔ لیکن 20 فروری 2026 کو امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی ٹیکس پالیسی کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اس سے ہندوستان کو ملنے والی چھوٹ راتوں رات ختم ہو گئی۔ اس کے فوری بعد امریکہ نے ہندوستان سمیت اپنے تمام تجارتی معاہدوں پر 10 فیصد کا عارضی ٹیکس لگا دیا جس کی قانونی میعاد 24 جولائی 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔ اس کے بعد کیا ہوگا اس پر پوری طرح صورتحال غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔अमेरिकी व्यापार प्रतिनिधि जैमिसन ग्रीर आज और कल नई दिल्ली में हैं।प्रधानमंत्री मोदी के अनुरोध पर, जब वे संसद में @RahulGandhi द्वारा चीन के सामने उनकी कायरता के एक्सपोज़ के कारण दबाव में थे, 6 फरवरी, 2026 को भारत और अमेरिका के बीच व्यापार पर एक संयुक्त बयान जारी किया गया था।…— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) June 23, 2026جے رام رمیش نے کہا کہ امریکہ اب ہندوستان سمیت تقریباً 60 ممالک کی جانچ کر رہا ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ یہ ممالک تجارت میں غلط طریقے اختیار کر رہے ہیں۔ کانگریس کا ماننا ہے کہ امریکہ اس جانچ کا استعمال ہندوستان کو ڈرانے کے لیے کر رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہندوستان 6 فروری والے سمجھوتے پر باضابطہ طور پر دستخط کر دے۔کانگریس رہنما نے اس سمجھوتے کو ہندوستان کے لیے خسارے کا سودا بتایا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، بہار، مدھیہ پردیش، راجستھان اور مہاراشٹر کے کسانوں پر بہت برا اثر پڑے گا۔ ہندوستان اپنی طرف سے درآمد 3 گنا بڑھانے کا وعدہ کر رہا ہے لیکن امریکہ کی طرف سے کوئی ٹھوس وعدہ نہیں ہے۔ انہوں سوال کیا کہ جب امریکہ، جاپان اور یورپی یونین جیسے ممالک کو ٹیکس بڑھانے کی دھمکی دے سکتا ہے تو ہندوستان کے ساتھ سمجھوتے کے بعد وہ ایسا نہیں کرے گا، اس کی کیا گارنٹی ہے؟’یہ نریندر کا یکطرفہ سرینڈر ہے‘، امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ پر کانگریس کا تلخ رد عملجے رام رمیش نے آخر میں کہا کہ وزیر اعظم مودی کو ٹرمپ کو خوش کرنے کی کوشش ترک کردینی چاہئے۔ ٹرمپ نے’آپریشن سندور‘ کو 100 سے زیادہ بار رکوانے کا دعویٰ کیا ہے لیکن مودی نے ابھی تک اس دعوے کو چیلنج نہیں کیا ہے۔ جیمیسن گریر کا یہ دورہ اسی عبوری تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے ہے جس پر مودی اور ٹرمپ نے فروری میں اتفاق کیا تھا۔ گزشتہ ہفتے فرانس میں جی -7 اجلاس کے دوران بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ دونوں ممالک سمجھوتے کے بہت قریب ہیں۔