پونا : بھارت کے بدنام زمانہ کیتن اگروال قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، پولیس نے ملزمہ کو جائے وقوعہ لے جا کر دوبارہ منظر کشی کی۔بھارت کی 26 سالہ نوجوان کاروباری شخصیت کیتن اگروال کا معاملہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید سنسنی خیز رخ اختیار کرتا جارہا ہے۔مقتول کیتن اگروال کی منگیتر اور قتل کی گرفتار ملزمہ 20 سالہ سیّا گوئل کو پولیس سخت سکیورٹی میں جائے وقوعہ لوہا گڑھ قلعے لے گئی، جہاں اس سے ایک ڈمی کے ذریعے دوبارہ منظر کشی کروائی گئی۔پولیس کے مطابق 18 جون کو پیش آنے والے اس ہولناک واقعے میں 26 سالہ کیتن اگروال کو مبینہ طور پر قلعے کی بلندی سے دھکا دے کر موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔پولیس نے جرم کی تفصیلات جاننے کے لیے ایک ڈمی (فرضی جسم) استعمال کیا اور ملزمہ سے مبینہ طور پر یہ دکھانے کو کہا گیا کہ اس نے کیتن کو کس طرح نیچے گرایا تھا۔پولیس تحقیقات کے مطابق سیّا گوئل اور اس کے مبینہ قریبی دوست چیتن چودھری کو قتل کی سازش اور جرم کے ارتکاب کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔قتل کی ملزمہ کا اعتراف جرمپولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے دورانِ تفتیش بتایا ہے کہ وہ کیتن اگروال سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی، تاہم رشتہ ختم کرنے سے خاندان کی بدنامی کے خدشے کے باعث اس نے مبینہ طور پر چیتن چودھری کے ساتھ مل کر قتل کی منصوبہ بندی کی۔پولیس حکام کے مطابق ملزمہ سیّا گوئل نے تحقیقاتی افسران کو قلعے تک پہنچنے کا راستہ بھی دکھایا، اس کے علاوہ شریک ملزم چیتن چودھری کو بھی علیحدہ سے موقع پر لے جاکر واقعے کی تفتییش کی جائے گی۔تفتیشی ٹیم مبینہ قتل کی منصوبہ بندی، ملزمان کی آمدورفت، ڈیجیٹل سرگرمیوں اور قتل کے محرکات سمیت مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔ملزمہ کے بھائی کے بیان سے کیس کو مزید تقویت مل گئیکیتن اگروال قتل کیس کے سلسلے میں ملزمہ کے بھائی ساحل گوئل نے پولیس کو بتایا کہ اگر میری بہن کیتن سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی تو یہ رشتہ ہم خود ہی ختم کر دیتے۔بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق پونے پولیس نے ساحل گوئل سے کئی گھنٹے طویل پوچھ گچھ کی، بھائی نے دورانِ تفتیش بتایا کہ خاندان والوں کو اس بات علم نہیں تھا کہ سیّا اس شادی کے خلاف ہے۔دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سیّا گوئل اور شریک ملزم چیتن چودھری نے کیتن اگروال کو راستے سے ہٹانے کے لیے قتل کی سازش تیار کی تھی۔تفتیشی حکام کے مطابق قتل مکمل منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا اس واقعے کی کڑیاں جوڑنے کے لیے حذف شدہ چیٹس، کال ریکارڈز اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔علاوہ ازیں سیّا گوئل کے وکیل نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی مؤکلہ کو مجرم ثابت کرنے کے لیے کوئی عینی شاہد یا ثبوت موجود نہیں، استغاثہ کا مقدمہ زیادہ تر شکوک شبہات پر مبنی ہے۔پونے پولیس کی جانب سے کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاہم فرانزک شواہد اور گواہوں کے بیانات آئندہ چالان میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ نوجوان کی موت کے واقعے کے بعد ابتدائی طور پر اسے ٹریکنگ کے دوران پیش آنے والا عام حادثہ قرار دیا گیا تھا، تاہم پولیس تحقیقات میں یہ معاملہ قتل میں تبدیل ہوتا چلا گیا۔پولیس نے پہلے شک کی بنیاد پر کیتن اگروال کی منگیتر سیا گوئل اور اس کے ایک قریبی دوست کو گرفتار کیا جس کے بعد معاملے گتھیاں سُلجھتی چلی گئیں۔