ایودھیا کے رام مندر نذرانہ چوری معاملہ میں ایک نیا موڑ آیا ہے۔ ’شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ‘ کے رکن چمپت رائے اور انل مشرا نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایس آئی ٹی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا۔ اس واقعہ کو تحقیقات کے سلسلے میں کی جانے والی کارروائی سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل ایس آئی ٹی کی سفارش پر اس معاملے میں پہلی ایف آئی آر بھی درج کی جا چکی ہے۔رام مندر عطیہ تنازعہ: 60 کلوگرام چاندی کی شیلائیں اور ہار بھی ریکارڈ سے غائب، ایس آئی ٹی تحقیقات میں مصروفرپورٹس کے مطابق ایس آئی ٹی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کچھ سخت سفارشات کی گئی تھیں، جس کے بعد معاملے کی تحقیقات مزید تیز کر دی گئیں۔ اسی سلسلے میں ’شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ‘ کی شکایت پر پہلی ایف آئی آر درج کی گئی، جس میں 8 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی دیگر نامعلوم افراد کے کردار کی بھی جانچ جاری ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی فی الحال مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مختلف پہلوؤں کی باریک بینی سے جانچ کر رہی ہے۔ایس آئی ٹی ملزمان کے بینک اکاؤنٹس، جائیداد، موبائل ریکارڈز اور مبینہ مالی لین دین کی تحقیقات میں مصروف ہے۔ رپورٹس کے مطابق ابتدائی رپورٹ کی بنیاد پر تحقیقات کا دائرہ مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔ اسی درمیان چمپت رائے اور انل مشرا کے استعفوں نے پورے معاملے کو ایک نئی سمت دے دی ہے اور اسے تحقیقات سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ اتر پردیش حکومت کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں اگر کسی بھی سطح پر بے ضابطگی یا ذمہ داری طے ہوتی ہے تو متعلقہ افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اب سب کی نگاہیں ایس آئی ٹی کی حتمی رپورٹ پر مرکوز ہیں، جس سے یہ واضح ہو سکے گا کہ تحقیقات کا دائرہ مزید بڑھے گا یا نہیں۔