مغربی ایشیا میں کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت معمول پر آنے کے بعد ہندوستان میں کمرشل ایل پی جی کی فراہمی بھی بتدریج معمول پر لائی جا رہی ہے۔ مرکزی حکومت نے غیر گھریلو یعنی کمرشل پیکڈ ایل پی جی کی سپلائی پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ بلک ایل پی جی کی فراہمی بھی بحران سے پہلے کی سطح کے 50 فیصد تک بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزارتِ پٹرولیم کے سکریٹری ڈاکٹر نیرج متل کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ مغربی ایشیا کے بحران کے دوران سپلائی میں رکاوٹوں کے خدشات کے پیش نظر گھریلو صارفین کو بلا تعطل ایل پی جی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کمرشل پیکڈ ایل پی جی کی سپلائی محدود کر دی گئی تھی۔ اب حالات میں بہتری کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ غیر گھریلو پیکڈ ایل پی جی کی سپلائی پر عائد تمام شعبہ جاتی پابندیاں ختم کر کے فراہمی کو بحران سے پہلے کی سطح پر بحال کیا جائے۔حکم نامے کے مطابق بلک ایل پی جی کی سپلائی میں بھی نرمی کرتے ہوئے صنعتی اور کمرشل صارفین کو بحران سے پہلے کی کھپت کے 50 فیصد تک گیس فراہم کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے، تاکہ کاروباری سرگرمیاں معمول پر آ سکیں اور سپلائی کا نظام بتدریج مکمل طور پر بحال ہو سکے۔وزارت نے تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ تمام کمرشل اور صنعتی صارفین کا مکمل ریکارڈ اپنے ڈیٹا بیس میں محفوظ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے تمام شعبوں پر مشتمل ایک مشترکہ اور منظم ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا، تاکہ مستقبل میں سپلائی کے انتظام اور نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔وزارتِ پٹرولیم نے ان صارفین سے بھی اپیل کی ہے جن کے پاس پائپ کے ذریعے قدرتی گیس کا کنکشن موجود ہے کہ وہ طویل مدتی اور پائیدار متبادل کے طور پر اسی سہولت کا استعمال جاری رکھیں، تاکہ ایل پی جی پر دباؤ کم رہے اور سپلائی کا نظام مزید مستحکم بنایا جا سکے۔حکومت کے اس فیصلے کو مغربی ایشیا میں حالات میں بہتری اور آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت معمول پر آنے کا براہِ راست اثر قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات میں نمایاں کمی آئی ہے۔