ریشو شری ٹینڈر گھوٹالہ: تیجسوی یادو نے بہار حکومت سے پوچھے 20 سوال، غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ

Wait 5 sec.

پٹنہ: بہار اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی پرساد یادو نے ’ریشو شری ٹینڈر گھوٹالہ‘ کو لے کر ریاست کی این ڈی اے حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے 20 سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہزاروں کروڑ روپے کے اس گھوٹالے میں صرف نچلے درجے کے افسران کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ اعلیٰ افسران اور سیاسی سرپرستی حاصل افراد کو بچانے کی کوشش ہو رہی ہے۔تیجسوی یادو نے پیر کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایک عام ٹھیکیدار برسوں تک مختلف سرکاری محکموں کے ٹینڈروں پر اثر انداز کیسے ہوتا رہا اور سرکاری نگرانی کا نظام اس دوران کیا کرتا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تفتیشی ایجنسیوں کے سامنے آئے چیٹ ریکارڈ درست ہیں تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کو اعلیٰ سطح کی سرپرستی حاصل تھی، اس لیے یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ وہ کس کے اشارے پر افسران کو ہدایات دیتا تھا۔انہوں نے الزام لگایا کہ دو آئی اے ایس افسران کی معطلی کے باوجود نہ ان کی گرفتاری ہوئی اور نہ ہی ان کے نام چارج شیٹ میں شامل کیے گئے۔ تیجسوی یادو کے مطابق جانچ میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ سرکاری بل منظور کرانے اور ٹینڈر دلانے کے عوض دو سے ساڑھے تین فیصد تک کمیشن لیا جاتا تھا۔ اگر یہ الزام درست ہے تو حکومت کی "زیرو ٹالرنس" پالیسی پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔تیجسوی یادو نے پرنس یادو کی مشتبہ موت کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیاانہوں نے مطالبہ کیا کہ ریشو شری اور اس سے وابستہ تمام کمپنیوں کو ملنے والے سرکاری ٹینڈروں کی عدالتی نگرانی میں آزادانہ جانچ کرائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کمپنیوں کے مالی لین دین، سرکاری معاہدوں اور دیگر ریاستوں، خصوصاً گجرات سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کے کردار کی بھی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔تیجسوی یادو نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ چھاپوں کے دوران ملزم کے قبضے سے 99 جائیدادوں کے کاغذات، کروڑوں روپے نقد اور بڑی مقدار میں زیورات برآمد ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک ٹھیکیدار کے پاس اتنی بڑی دولت کہاں سے آئی اور حکومت کو اگر پہلے سے معاملے کی اطلاع تھی تو ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کیوں کی گئی۔خزانہ خالی لیکن گھوٹالے بازوں کی جیبیں بھری ہیں: تیجسوی یادوریشو شری گھوٹالہ کیا ہے؟ریشو شری گھوٹالہ دراصل بہار میں سامنے آنے والا ایک ٹینڈر اور کمیشن کا معاملہ ہے۔ الزام ہے کہ ریشو شری نامی ٹھیکیدار اور اس سے وابستہ متعدد کمپنیوں نے مختلف سرکاری محکموں میں اثر و رسوخ قائم کر کے ٹھیکے حاصل کیے۔ تفتیش میں ایسے چیٹ، مالی لین دین اور دیگر شواہد سامنے آئے ہیں جن سے یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بعض سرکاری افسران کو تحائف، غیر ملکی دوروں اور دیگر مراعات کے ذریعے فائدہ پہنچایا گیا تاکہ مخصوص کمپنیوں کو سرکاری ٹینڈر مل سکیں۔قائدِ حزبِ اختلاف نے مطالبہ کیا کہ اس گھوٹالے میں ملوث تمام افسران، سیاسی سرپرستوں اور متعلقہ محکموں کے کردار کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔