ہندوستان اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے سے متعلق بات چیت تقریباً آخری مراحل میں ہے۔ حالانکہ اس معاہدے پر مختلف حلقوں کی جانب سے لگاتار اعتراض کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مجوزہ معاہدہ ہندوستان میں کسانوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس دوران کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے بھی ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ اور مرکزی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر تلخ حملہ کیا ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ ووٹ دینے کے حق کو ایک بنیادی حق کا درجہ دیا جائے: جے رام رمیشجے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی سرپلس کم ہوا ہے، جبکہ چین کے ساتھ تجارتی خسارہ بڑھ گیا ہے۔ کانگریس لیڈر نے طنزکستے ہوئے کہا کہ ’مودی نامکس‘ کا مطلب امریکہ کو خوش کرنا اور چین کے سامنے جھکنا ہو گیا ہے۔جے رام رمیش کے مطابق 26-2025 میں امریکہ کے ساتھ ہندوستانی اشیاء کا کاروبار 34.4 ارب ڈالر رہا، جو 25-2024 میں 40.1 ارب ڈالر تھا۔ وہیں چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ 99.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 112.2 ارب ڈالر پہنچ گیا۔ ان اعداد و شمار کی بنیاد پر انہوں نے مرکزی حکومت کی تجارتی پالیسی پر سوال اٹھائے۔ واضح رہے کہ فروری 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان ایک عبوری فریم ورک پر اتفاق ہونے کے بعد سے اپوزیشن اس معاملے کو شدت سے اٹھا رہا ہے۔India’s goods trade surplus with the USA in 2025-26 was $34.4 billion as compared to $40.1 billion in 2024-25.India’s goods trade deficit with China in 2025-26 was $112.2 billion as compared to $99.2 billion in 2024-25.Modinomics = Appeasement of USA + Capitulation to China— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) June 24, 2026دوسری جانب امریکہ کا دعویٰ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ اب تقریباً تیار ہے۔ جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کی امریکی ڈپٹی اسسٹنٹ سکریٹری بیتھنی پولوس موریسن نے حال ہی میں کہا کہ ہندوستان اور امریکہ تاریخی تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب ہیں۔ موریسن کے مطابق اس معاہدے سے ہندوستانی بازار امریکی مصنوعات کے لیے مزید کھلے گا اور دونوں ممالک کو اس کا فائدہ ملے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور ہندوستان 2030 تک 500 ارب ڈالر کی دوطرفہ تجارت کے ہدف یعنی ’مشن 500‘ کو حاصل کرنے کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔