واشنگٹن (24 جون 2026): ایران جنگ میں تباہ ایف 15 طیارے کے پائلٹ کے اس انکشاف نے کہ ایرانی ڈرونز نے فضا میں ایک جیلی فش فارمیشن میں اُن پر حملہ کیا تھا، حکام کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا۔ایران میں تباہ شدہ ایف ففٹین کے پائلٹ نے ایک پریشان کن انکشاف کیا ہے جس سے امریکی حکام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، پائلٹ نے بتایا کہ نشانہ بننے سے پہلے اُس نے دیکھا کہ بہت سارے ایرانی ڈرونز نے جیلی فش کی فارمیشن بنائی ہوئی ہے، جیسے وہ فضا میں ’ڈرونز کی بارودی سرنگ‘ ہو۔فائٹر پائلٹ نے کہا ایک بڑا ڈرون اوپر اور لاتعداد چھوٹے ڈرونز اس کی ٹانگوں کی طرح اڑ رہے تھے۔یاد رہے کہ امریکا کا ایف ففٹین طیارہ ایرانی فضائی حدود میں اپریل میں گر کر تباہ ہوا تھا، اور طیارے کے دونوں پائلٹوں نے بروقت ایجیکٹ کر لیا تھا، جنھیں بعد میں امریکی فوج نے اسپیشل آپریشن کر کے ریسکیو کر لیا تھا۔حادثے کے بعد ڈی بریفنگ میں فائٹر پائلٹ نے خفیہ اداروں کے حکام کو تفصیلات سے آگاہ کیا، پائلٹ کے بیان سے امریکی حکام تشویش میں مبتلا ہو گئے، ماہرین کے مطابق اگر پائلٹ نے واقعی وہی کچھ دیکھا جو اس نے بیان کیا، یعنی ڈرونز کی ایک ایسی تشکیل جو مکمل ہم آہنگی کے ساتھ حرکت کر رہی تھی، تو یہ ایرانی ڈرون ٹیکنالوجی میں ایک نہایت اہم اور تشویش ناک پیش رفت سمجھی جائے گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ایران کو ڈرون ٹیکنالوجی میں چین اور روس کی معاونت حاصل ہے۔ذرائع نے سی این این کو بتایا ’’متعدد ڈرون آپس میں مربوط تھے اور ایک جسم کی طرح حرکت کر رہے تھے، جب کہ بڑے ڈرونز کے نیچے چھوٹے ڈرون ایسے دکھائی دے رہے تھے جیسے ٹانگیں ہوں۔ یہ منظر بالکل خلائی مخلوق جیسا محسوس ہوتا تھا۔‘‘اپریل میں ایران کے اوپر مار گرائے جانے والے ایک امریکی جنگی طیارے کے پائلٹ، جسے بعد میں خصوصی دستوں نے بحفاظت نکال لیا تھا، نے انکشاف کیا کہ طیارے سے ایجیکٹ (چھلانگ) لگانے سے قبل اس نے ایک نہایت حیران کن منظر دیکھا۔ معاملے سے واقف چار ذرائع کے مطابق پائلٹ نے آسمان میں متعدد ایرانی ڈرونز کو ایک ایسی ترتیب میں پرواز کرتے دیکھا جو جیلی فش (سمندری جیلی نما مخلوق) سے مشابہ تھی اور تمام ڈرون ایک اکائی کی طرح حرکت کر رہے تھے۔اگرچہ ایف-15 طیارے کے گرائے جانے کی اصل وجہ کی تحقیقات ابھی جاری ہیں، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق ممکن ہے کہ ڈرونز کی اس تشکیل نے کسی نہ کسی انداز میں ایران کو امریکی طیارہ مار گرانے میں مدد فراہم کی ہو۔ ایف-15 میں دو افراد سوار تھے، ایک پائلٹ اور ایک ویپن سسٹم آفیسر۔ یہ واقعہ اس جنگ کے دوران پہلی مرتبہ تھا کہ ایران کے اوپر کوئی امریکی طیارہ مار گرایا گیا۔پائلٹ کو طیارے سے نکلنے کے چند گھنٹوں بعد بچا لیا گیا، جب کہ ویپن سسٹم آفیسر ایک دن سے زائد عرصے تک پہاڑوں میں ایرانی گرفتاری سے بچتا رہا اور بعد میں اسے بھی محفوظ نکال لیا گیا۔ یہ واضح نہیں کہ آیا اس نے بھی ڈرونز کی وہی تشکیل دیکھی تھی یا نہیں۔ریسکیو آپریشن کے دوران ایک دوسرا امریکی طیارہ، اے-10، بھی تباہ ہوا، تاہم اس کا پائلٹ ایرانی فضائی حدود سے باہر بحفاظت ایجیکٹ کرنے میں کامیاب رہا تھا۔امریکی انٹیلی جنس حکام اس بات پر متفق نہیں تھے کہ پائلٹ کے بیان کی کیا تشریح کی جائے اور آیا وہ واقعے کو درست طور پر بیان کرنے کی حالت میں تھا یا نہیں۔ ایک وجہ یہ تھی کہ حادثے میں اسے دماغی چوٹ آئی تھی۔ مزید یہ کہ ایران جنگ کے دوران یہ دوسرا موقع تھا جب اس کا طیارہ مار گرایا گیا۔ ذرائع کے مطابق جنگ کے آغاز میں کویتی افواج کی ’’فرینڈلی فائر‘‘ کارروائی میں بھی وہ متاثر ہونے والے پائلٹوں میں شامل تھا۔حکام کے ذہن میں کئی سوالات تھے جیسے کہ کیا پائلٹ نے واقعی ایسی صلاحیت دیکھی تھی جس سے امریکی انٹیلی جنس لاعلم تھی؟ کیا یہ کسی نئی ٹیکنالوجی کا آزمائشی مرحلہ تھا؟ یا پھر صحرا میں نظر آنے والا کوئی بصری دھوکا؟ذرائع کے مطابق پائلٹ نے جس صلاحیت کا ذکر کیا، اسے تکنیکی زبان میں One-to-Many Meshed Networking کہا جاتا ہے۔ عام طور پر میشڈ نیٹ ورکنگ کے ذریعے ایک آپریٹر بہ یک وقت متعدد ڈرونز کو کنٹرول کر سکتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ روس اور چین کے پاس پہلے ہی ایسی صلاحیت موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کے پہلے سے ترقی یافتہ ڈرون جنگی پروگرام میں اس قسم کی کسی بھی نئی پیش رفت سے خطے میں امریکی افواج اور ان کے اتحادیوں کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔