’’امریکی عوام کو کنفیوژن، افراتفری اور بھاری قیمت کے سوا کچھ نہیں ملا‘‘

Wait 5 sec.

واشنگٹن (24 جون 2026): ڈیموکریٹ رہنما چک شومر نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ سے امریکی عوام کو کنفیوژن، افراتفری اور بھاری قیمت کے سوا کچھ نہیں دیا۔امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ رہنما چک شومر نے صدر ٹرمپ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے ہر سیکنڈ کے ساتھ امریکی عوام کے اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں، امریکی عوام نے ایران میں ٹرمپ کی تاریخی غلطی کی قیمت چکائی ہے۔انھوں نے کہا یہ تاریخ میں امر یکا بلکہ کسی بھی ملک کی جانب سے کی گئی بدترین خارجہ پالیسی کی مہم کے طور پر درج ہوگی، یہ مضحکہ خیز اور مہنگی جنگ ہے، جس کا کوئی مقصد نہیں ہے۔چک شومر نے مطالبہ کیا کہ ایران جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے، ٹرمپ کو یہ جنگ کبھی شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ایرانی فضا میں ایک بہت بڑی ’’جیلی فش‘‘ نے حملہ کیا تھا، امریکی ایف 15 کے پائلٹ کا حیران کن انکشافواضح رہے کہ امریکی سینیٹ نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ یا تو ایران کے خلاف اپنی فوجی مہم روک دیں یا مزید کارروائی سے قبل کانگریس سے منظوری لیں۔ منگل کو، ایوان نے قرارداد کو منظور کرنے کے لیے 48 کے مقابلے میں 50 ووٹ دیے، جو کہ اس ماہ کے اوائل میں ایوان نمائندگان میں منظور کی گئی تھی۔منگل کو ہونے والی رائے شماری اس لحاظ سے تاریخی تھی کہ پہلی بار جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد کانگریس کے دونوں ایوانوں سے کامیابی کے ساتھ منظور ہوئی۔ تاہم، یہ اقدام بڑی حد تک علامتی حیثیت رکھتا ہے اور توقع نہیں کی جا رہی کہ یہ باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر سکے گا۔