واشنگٹن(24 جون 2026): امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر کوئی ملک ٹول یا فیس عائد نہیں کر سکتا۔ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے پر خلیجی اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کے لیے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی پہنچ گئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس دورے کے دوران امریکا کی جانب سے خلیجی ممالک کو نئی سکیورٹی یقین دہانیاں کرائے جانے کا قوی امکان ہے۔ابوظہبی پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور عالمی قوانین کے مطابق کسی بھی ملک کو اس اہم تجارتی راستے پر کوئی ٹول یا فیس عائد کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے واضح کیا کہ عالمی آبی راستے پر کسی قسم کا ٹیکس یا فیس لگانا بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے اور خطے کے تمام ممالک اس معاملے پر امریکہ کے مؤقف سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔ایرانی سیاست پر بات کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کو اب ایک انقلابی تحریک کے بجائے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر کام کرنا ہو گا۔ اگر ایران ایک عام ریاست کے طور پر طرزِ عمل اختیار کرے تو اس کے لیے بڑی ترقی کے مواقع موجود ہیں، تاہم جب تک خطے میں ایرانی پراکسیز حملے کرتے رہیں گے، تب تک کشیدگی کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکتا۔امریکی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ عراق کی سرزمین سے ہونے والے میزائل اور ڈرون حملے علاقائی امن و سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق میں بھی حماس اور حزب اللہ جیسے گروہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں اور امریکا-ایران مذاکرات میں یہ موضوع بھی بہت جلد زیرِ بحث لایا جائے گا۔واضح رہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ کا یہ بیان عمان اور ایران کے اس مشترکہ اعلامیے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں دونوں ممالک نے کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور وہاں فراہم کی جانے والی خدمات کے عوض بحری جہازوں سے وصول کی جانے والی فیس کا جائزہ لیں گے۔